’کراچی، پشاور ٹیسٹ نہ رکھیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی کرکٹ حکام نے پاکستانی کرکٹ بورڈ سے کہا کہ بھارت کی ٹیم کے دورہِ پاکستان کے دوران کراچی اور پشاور میں ٹیسٹ میچز نہ رکھے جائیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نےپاکستانی کرکٹ بورڈ کے سربراہ شہریار کے حوالے سے خبر دی ہے کہ بھارتی حکام چاہتے ہیں کہ پاکستان کے دورے کے دوران بھارتی ٹیم کراچی اور پشاور میں کم سے کم قیام کرے۔ شہریار خان نے کہا کہ بھارتی بورڈ کے سربراہ جگموہن ڈالمیا نے ان سے کہا ہے کہ کراچی اور پشاور میں بھارتی ٹیم کے قیام کومحدود کرنے کے لیے اقدامات کریں۔ اس سے پہلے بھارتی حکومت نے بھارتی کرکٹ ٹیم کو پاکستان کے دورے پر جانے کی اجازت دے دی تھی لیکن اب تک یہ بات طے نہیں ہوئی کہ اگلے ماہ ہونے والے دورے کے دوران میچ کب کب اور کہاں کہاں کھیلے جائیں گے؟ بھارتی کرکٹ ٹیم انیس سو نواسی کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان کا دورہ کر رہی ہے۔ وہ مارچ اور اپریل کے مہینوں میں پاکستان کے خلاف تین ٹیسٹ اور پانچ ایک روزہ بین الاقوامی میچ کھیلے گی۔ فریقین کے درمیان اس بات پر فیصلہ نہیں ہو پایا ہے کہ آیا بھارتی ٹیم کراچی اور پشاور میں ہونے والے میچ کھیلے گی یا نہیں۔ اس سے پہلے نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کی ٹیموں نے بھی سکیورٹی کے پیش نظر ان شہروں میں میچ کھیلنے سے انکار کر دیا تھا۔ کراچی میں نسلی فسادات اور بم دھماکوں کے واقعات پیش آتے رہے ہیں جبکہ پشاور جغرافیائی اعتبار سے افغانستان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ خواہاں ہے کہ تین میں سے دو ٹیسٹ کراچی اور پشاور میں کھیلیں جائیں جبکہ بھارتی کرکٹ بورڈ ان شہروں میں صرف ایک روزہ بین الاقوامی میچ کھیلنے کے حق میں ہے۔ بھارتی کرکٹ بورڈ کا تین رکنی وفد پاکستان کا دورہ مکمل کرنے کے بعد پیر کے روز ملک واپس چلا گیا ہے۔ اس وفد میں شامل امرت ماتھر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ ہم کوئی حل تلاش کر لیں گے‘۔ بھارت کرکٹ بورڈ کے تین رکنی وفد میں وزارت داخلہ کی جانب سے سکیورٹی کے ایک ماہر کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ یہ وفد آئندہ دو روز میں حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کرے گا۔ بھارت کے نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی نے ذرائع ابلاغ کی ان خبروں کو فضول قرار دیا ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ بھارت کے سکیورٹی ماہرین ٹیم کے ہمراہ پاکستان کے دورے پر جائیں گے۔ تاہم اس بات کی توقع کم دکھائی دیتی ہے کہ جمعہ کے روز تک دورے کی حتمی تفصیلات جاری کر دی جائیں گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||