’کھلاڑیوں سے باز پرس نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی کرکٹ کے سربراہ جگ موہن ڈالمیا نے کہا ہے کہ اگر بھارتی کھلاڑیوں نے سکیورٹی خدشات کی وجہ سے پاکستان کا دورہ کرنے سے انکار کیا تو ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جائے گا۔ ڈالمیا کے اس بیان کے باوجود توقع ہے کہ کرکٹ کے بھارتی اہلکار اس ہفتے بھارتی ٹیم کے دورۂ پاکستان کی تفصلات جاری کر دیں گے۔ گزشتہ چودہ برس میں بھارتی ٹیم کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ ہوگا۔ تاہم ڈالمیا کا کہنا تھا کہ اگر کسی بھارتی کھلاڑی نے سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر پاکستان جانے سے انکار کیا تو وہ ایسے کھلاڑی کو وہاں جانے پر مجبور نہیں کریں گے۔ ’میں یہ بات تسلیم کر لوں گا۔ ہم پاکستان کرکٹ کھیلنے جا رہے ہیں نا کہ جنگ لڑنے۔‘ انہوں نے کہا کہ یہ بات لازمی نہیں ہے کہ کھلاڑی پاکستان ضرور جائیں۔ کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیت کے مطابق بہترین کارکردگی پیش کرنے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ جسمانی اور ذہنی طور پر توانا ہو۔ مگر ڈالمیا نے یہ بات بھی کہی کہ ابھی تک کسی ایک کھلاڑی نے بھی یہ نہیں کہا کہ وہ پاکستان نہیں جانا چاہتا۔انہوں نے کہا کہ اخبارات اور میڈیا میں اس طرح کی قیاس آرائیاں کی گئی ہیں لیکن کسی کھلاڑی نے ان سے اس طرح کی بات نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ تمام کھلاڑی ہمارے لئے اہم ہیں اور اس موقع پر اگر کوئی کھلاڑی سمجھتا ہے کہ وہ ذہنی اور جسمانی طور پر اس دورے سے آسودہ نہیں ہے تو ’ہم کہیں گے کہ کوئی بات نہیں۔‘ ادھر بھارتی بورڈ کی جانب سے سکیورٹی کی صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لئے جو وفد پاکستان گیا تھا، وہ بھارت واپس پہنچ گیا ہے۔ بی سی سی آئی اس وفد کی رپورٹ پر غور کرے گا۔ وفد کے سربراہ رتناکار شیٹی کا کہنا ہے کہ انہوں نے پاکستانی اہلکاروں سے میچ کی جگہ کی تبدیلی کی کوئی بات نہیں کی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||