BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 21 September, 2005, 23:13 GMT 04:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چھاؤنیوں کی تعمیر روکنے کی سفارش

چودھری شجاعت کی سربراہی میں پارلیمانی کمیٹی حکومت اور حزب اختلاف کے نمائندوں پر مشتمل تھی
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے بارے میں پارلیمینٹ کی کمیٹی نے حکومت کو سفارش کی ہے کہ صوبے کے بڑے مسائل حل کرنے کے لیے جاری بات چیت کے نتائج آنے تک صوبے میں فوجی چھاؤنیوں کی تعمیر روک دی جائے۔

یہ سفارش حکمران مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین کی سربراہی میں قائم پارلیمانی کمیٹی نے، جو حکومت اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے مساوی نمائندوں پر مشتمل تھی، بدھ کی شب ایوان بالا سینیٹ میں سید مشاہد حسین کے ذریعے پیش کردہ رپورٹ میں کی گئی ہے۔

کمیٹی کی بانوے صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں حکومت اور حزب اختلاف کے اراکین نے متفقہ طور پر سفارش کی ہے کہ جس ضلع یا ایجنسی سے گیس اور تیل نکلتا ہے اس مد میں صوبائی حکومت کو ملنے والی رائلٹی اور سرچارج کی رقم سے پندرہ فیصد متعلقہ ضلع کو دی جائے۔

سفارشات کے مطابق تیل اور گیس پیدا کرنے والے حکومتی اداروں کے بورڈ آف گورنرز میں صوبے کو زیادہ سے زیادہ نمائندگی دی جائے۔ تیل یا گیس تلاش یا پیدا کرنے والی کمپنی کل لاگت اور ٹیکس سے قبل ہونے والے منافع کا پانچ فیصد علاقے کی سماجی ترقی کے لیے مقامی نمائندگان کی مشاورت سے خرچ کرنے کی پابند ہو۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں جس علاقے سے گیس پیدا ہوگی یا پائپ لائن گزرے گی اس علاقے میں گیس کی فراہمی ترجیحی بنیاد پر یقینی بنائے گی۔

کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ صوبہ بلوچستان کے وفاق کے ذمے واجب الادا رائلٹی اور سرچارج کی رقم اکتیس دسمبر سن دو ہزار پانچ تک ادا کی جائے۔

وفاقی ملازمتوں، فوجی اور نیم فوجی اداروں میں آئین کے مطابق بلوچستان کا کوٹہ مقامی شہریوں کو ملازمت دے کر پر کرنے، گوادر بندرگاہ کا دفتر فوری طور پر گوادر منتقل کرنے اور چیئرمین سمیت بورڈ کے اراکین زیادہ تعداد میں صوبے سے مقرر کیے جانے کے بارے میں بھی کمیٹی نے سفارش کی ہے۔

رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ گوادر بندرگاہ میں مکران اور بلوچستان کے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ روزگار دیا جائے اور بلوچوں اور پشتونوں کا تناسب ملازمتوں سمیت ہر شعبے میں برقرار رکھا جائے۔

کمیٹی نے مچھیروں کو سہولیات دینے، صوبے کے نوجوانوں کو مختلف نوعیت کی فنی تربیت دینے کے لیے تعلیمی ادارے قائم کرنے، ملک کے مختلف میڈیکل اور انجنیئرنگ یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے نشتسیں مختص کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔

بلوچستان میں قومی فضائیہ کمپنی کی فوکر پروازوں پر سینٹرل ایکسائیز ڈیوٹی نہ وصول کرنے، صوبے میں ڈیم بنانے، آفت زدہ علاقوں کے کسانوں کے زرعی قرضے اور بجلی کے بل معاف کرنے کی بھی اس رپورٹ میں سفارشات کی گئی ہیں۔

ایف سی اور کوسٹ گارڈز کی غیر ضروری موجودگی ختم کرنے، لیویز کو برقرار رکھنے، کوئٹہ کے ہوائی اڈے پر فوری رات کو جہاز اترنے کی سہولت فراہم کرنے، ترقیاتی منصوبوں کے لیے اربوں روپوں کے فنڈز کی فراہمی اور معمولی مقدمات میں گرفتار سیاسی کارکنوں کی رہائی کے لیے بھی کمیٹی نے سفارشات کی ہیں۔

کمیٹی نے کہا ہے کہ ان سفارشات پر عملدرآمد کے لیے ٹاسک فورس بنائی جائے۔ لیکن سید مشاہد حسین نے بتایا کہ ان سمیت وزیراعظم معائنہ کمیشن کے چیئرمین اور پرنسپل سیکریٹری پر مشتمل ایک کمیٹی اس مقصد کے لیے بنائی گئی ہے۔

کمیٹی کی اس رپورٹ کے بارے میں ایوان میں موجود بلوچستان کی قومپرست جماعتوں کے نمائندوں سمیت حزب اختلاف میں سے کسی نے بھی اس پر کوئی فوری رد عمل ظاہر نہیں کیا۔ لیکن حکومت کے حامی رکن مہم خان بلوچ نے کہا کہ انہیں اس رپورٹ پر تحفظات ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد