بلوچستان:ڈ پٹی سپیکر کا استعفی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکمران مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے بلوچستان اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر اسلم بھوتانی نے سپیکر کے رویے کے خلاف آج اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سامنے بلوچستان اسمبلی کے سپیکر جمال شاہ کاکڑ کو اپنا استعفی پیش کر دیا ہے۔ اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ اسمبلی سیکریٹریٹ میں بے قاعدگیاں ہو رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے بہتر اسامیوں پر تعیناتی کی گئی ہے جن میں سے بیشتر پر سپیکر کے حلقے کے لوگوں کو تعینات کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سپیکر اپنے لیے ایک کروڑ روپے مالیت کی نئی گاڑی لینا چاہتے تھے جس کے لیے فنانس کمیٹی سے منظوری حاصل کر لی گئی تھی لیکن اب ان کے اعتراض پر سپیکر نے اپنا ارادہ بدل دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر سپیکر ان کا استعفی منظور کرلیتے ہیں جس میں انہوں نے سپیکر کی پالیسیوں پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے تو پھر سپیکر کو بھی چاہیے کو وہ اپنے عہدے سے استعفی دے دیں۔ اس بارے میں سپیکر بلوچستان اسمبلی جمال شاہ کاکڑ سے رابطہ قائم کیا گیاتو انہوں نے کسی قسم کی بات کرنے سے انکار کر دیا۔ یاد رہے کہ بلوچستان میں مخلوط حکومت میں شامل مسلم لیگ کے اندر اختلافات پائے جاتے ہیں۔ مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری اور رکن صوبائی اسمبلی جعفر مندو خیل اور سابق وزیر اعلی جان محمد جمالی اس ناراض گروپ کی قیادت کر رہے ہیں۔ جعفر مندو خیل نے کہا ہے کہ انہیں چودہ ارکان کی حمایت حاصل ہے اور وہ اپنا مقام چاہتے ہیں جو انہیں حاصل ہے۔ ناراض گروپ کو شکایت ہے کہ مجلس عمل کے وزراء حکومت پر حاوی ہیں اور زیادہ فنڈز مجلس عمل کے ارکان کے حلقوں میں استعمال ہو رہے ہیں مسلم لیگی اراکین کے حلقے یکسر نظر انداز کیے جا رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||