BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 23 June, 2005, 00:00 GMT 05:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان بجٹ، چھ وزراء کا بائیکاٹ

بلوچستان اسمبلی
وزیر خزانہ نے شور شرابے اور احتجاج کےدوران بجٹ پیش کیا
وزیر خزانہ سید احسان شاہ نے بدھ کو بلوچستان کا سال دو ہزار پانچ دو ہزار چھ کا خسارے کا بجٹ حزب اختلاف کے شور شرابے اور بائیکاٹ کے دوران پیش کر دیا ہے جس میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ حکمران مسلم لیگ کے پندرہ ارکان بجٹ اجلاس میں حاضر نہیں ہوئے۔

بلوچستان کے آئندہ سال کے بجٹ کا کل حجم چھیالیس ارب سینتیس کروڑ روپے تجویز کیا گیا ہے جس میں ترقیاتی بجٹ گیارہ ارب چھہتر کروڑ اور غیر ترقیاتی بجٹ چونتیس ارب اکسٹھ کروڑ روپے بتایا گیا ہے۔ تقریر میں کہا گیا ہے کہ بجٹ خسارہ پانچ ارب چوبیس کروڑ روپے متوقع ہے اور اگر وفاقی حکومت نے آٹھ ارب روپے فراہم نہ کیے تو خسارہ تیرہ ارب روپے ہو سکتا ہے۔ بجٹ میں انٹر میڈیٹ تک مفت تعلیم قرار دینے کی تجویز ہے لیکن اس میں صرف داخلہ فیس دینا پڑے گی۔ صوبائی حکومت نےنجی کمپنی کے تعاون سے ٹیلیویژن سٹیشن قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ یار دہے گزشتہ بجٹ میں صوبائی حکومت نے بینک قائم کرنے کا فیصلہ کیا لیکن اس پر عملدرآمد نہیں کیا جا سکا۔

صوبہ بلوچستان اس وقت مالی بحرا ن کا شکار ہے سینیئر صوبائی وزیر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے بلوچستان حکومت کا خزانہ خالی ہے اور یہ بجٹ وفاقی حکومت کے وعدوں اور یقین دہانیوں پر پیش کیا گیا ہے ۔ انہوں نے اس بجٹ کو متوازن بجٹ قرار دیا ہے۔

بجٹ اجلاس کوئی ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا اور جب شروع ہوا تو حزب اختلاف کے اراکین نے تقریروں کے دوران شور شرابا شروع کر دیا ڈیسک بجائے گئے اور بجٹ تقریر کی کاپیاں پھاڑ کر پھینک دی گئیں۔

وزیر خزانہ نے سپیکر کی اجازت کے بغیر بجٹ تقریر شروع کر دی جس پر شور شرابا بڑھتا گیا لیکن وزیر خزانہ نے سپیکر کی تنبیہ کو سنی ان سنی کردی اور تقریر پڑھتے گئے بعد میں سپیکر کی مداخلت پر وزیر خزانہ نے تقریر دوبارہ شروع کر دی۔

ادھر حزب اختلاف کے اراکین نے حکومت کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی ہے اور وزیر اعلیٰ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ اور پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے عبدالرحیم زیارتوال نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ موجودہ بجٹ میں اسی فیصد جاری سکیموں پر خرچ ہو گا صرف بیس فیصد نئی سکیموں پر خرچ ہوں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مسلم لیگ اور مجلس عمل نے آئندہ کئی برسوں تک ترقیاتی فنڈز بک کر دیے ہیں۔

آج حکمران مسلم لیگ کے پندرہ ارکان غیر حاضر تھے اور مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں کے کل اکتیس ارکان موجود تھے۔ غیر حاضر صوبائی وزیر شیر جان بلوچ نے بی بی سی کو بتایا ہے پندرہ ارکان نے جن میں چھ صوبائی وزراء بھی شامل ہیں بجٹ اجلاس کا بائیکاٹ کیا ہے۔ انھوں نے حکومت پر سخت تنقید کی اور کہا کہ وہ اس وقت تک اجلاس میں نہیں آئیں گے جب تک ان کے مطالبات منظور نہیں ہوتے۔ ان ناراض ارکان کو ترقیاتی فنڈز کی تقسیم پر اعتراض ہے اور مجلس عمل سے معاہدے ہر تنقید کررہے ہیں جس کے تحت بقول ان کے مجلس عمل کے پاس وزارتوں کے اچھے عہدے ہیں اور انہوں نے حکومت کو ہائی جیک کر رکھا ہے۔ اگر یہ ارکان بجٹ اجلاس کا بائیکاٹ جاری رکھتے ہیں تو حکومت کو بجٹ منظور کرانے کے لیے تینتس ارکان کی ضرورت ہوگی جو اس وقت حکومت کے لیے مشکل پیدا کیے ہوئے ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد