BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 20 June, 2005, 15:53 GMT 20:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پنجاب اسمبلی بجٹ اجلاس کا بائیکاٹ

پنجاب اسمبلی
اپوزیشن ارکان نے بجٹ اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔
پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن نے بجٹ سیشن کا بائیکاٹ کر دیا ہے حکومت نے معطل شدہ ارکان کو اسمبلی حدود میں داخل نہیں ہونے دیا جس پر انہوں نے اپوزیشن کے دوسرے اراکان کے ساتھ مل کرنعرے بازی کی اور سڑک پر دہرنا دیا۔

آج اجلاس کی کارروائی شروع ہوئی تو قائد حزب اختلاف قاسم ضیا نے پوائنٹ آف آرڈر پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سپیکر پنجاب اسمبلی پر اعتماد نہیں رہا۔

انہوں نے کہا کہ رانا ثناءاللہ نے صرف اتنا کہا تھا کہ لوٹوں کے باپ نہیں ہوتے اگر سپیکر نے الفاظ کارروائی سے حذف کر ہی دیے تھے تو پھر ان الفاظ کی بنیاد پر حکومتی اراکین قرار داد پیشں نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا کہ سپیکر نے حکومتی اراکین کی قرار داد پر اراکین کو معطل کرنے کی روایت ڈال کر بہت برا کیا ہے مستقبل میں حکومتی اراکین جب چاہیں گے اپوزیشن کے اراکین کو قرار داد کے ذریعے ایوان سے بے دخل کر دیں گے۔

انہوں نے سپیکر پنجاب اسمبلی کو پیشکش کی کہ اگر وہ لکھ کر دیں کہ انہیں اپوزیشن کے اراکان پسند نہیں تو اپوزیشن کے لوگ مستعفیٰ ہوجائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اخبارات میں آ رہا ہے کہ حکومت کی آپس میں کوئی پاور پلے ہے اگر ایسا ہے تو براہ کرم اس لڑائی میں ایوان کو استعمال نہ کیا جائے۔

سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایوان کو احسن طریقے سے چلائیں انہون نے کہا کہ اپوزیشن اراکین کی بات انہوں نے سنی ہے لیکن انہوں نے اس وقت جو ضروری سمجھا وہی کیا انہوں نے کہا کہ رانا ثناء اللہ دل کے مریض ہیں اور ان کا بائی پاس آپریشن ہو چکا ہے۔

اگراس وقت دو سو اکہتر (حکومتی) اراکین ان پر پل پڑتے تو کچھ بھی ہو سکتا تھا پھر اراکین نے یہ کہنا تھا کہ سپیکر نے یہ سب کرایا ہے انہوں نے کہا کہ انہوں نے رانا ثناءاللہ کی بہتری کے لیے یہ کام کیا تھا۔

قاسم ضیا نے اس بات پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر دو سو اکہتر افراد ہم سے الجھنا چاہتے ہیں تو بصد شوق آئیں ہم یہاں کھڑے ہیں ۔‘

سپیکر پنجاب اسمبلی نے بحران کے حل کے لیے اپوزیشن اورحکومتی اراکین پرمشتمل کمیٹی بنانے کی پیشکش کی جو قائد حزب اختلاف قاسم ضیا نے مسترد کردی اور کہا کہ وہ پورے بجٹ سیشن کے بائیکاٹ کرتے ہیں ان کے اس اعلان پر اپوزیشن اراکین نعرے لگاتے ایوان سے باہر آگئے۔

انہوں نے قاسم ضیا کی قیادت میں پنجاب اسمبلی کی سیڑھیوں پر نعرے بازی کی اور پندرہ منٹ تک اپنے دیگر ساتھیوں کی آمد کا انتظار کیا۔

اپوزیشن کے معطل ہونے والے دس اراکین بھی وہاں پہنچے تو پولیس اور دیگر سکیورٹی اہلکاروں نے رکاوٹیں کھڑی کرکے انہیں اسمبلی حدود میں جانے سے روک دیا۔

اپوزیشن اراکین دھوپ سے تپتی زمین پر دھرنا دیے بیٹھے رہے اور حکومت اور سپیکر مخالف نعرے بازی کرتے رہے جبکہ ایوان میں ضمنی بجٹ پر بحث جاری رہی۔

سپیکر پنجاب اسمبلی افضل ساہی نے چند روز کے دوران نازیباالفاظ ادا کرنے اور غیر پارلیمانی رویہ روا رکھنے پر دو خواتین سمیت دس اراکین پنجاب اسمبلی پر موجودہ بجٹ اجلاس میں شرکت پر پاپندی لگارکھی ہے جس پر اپوزیشن کے احتجاج کا آج پانچواں روز ہے۔

66غربت کا عفریت
پنجاب میں 40 لاکھ بچے تعلیم سے محروم
66خواتین ارکان متحد
مرد رکن اسمبلی کی جملہ بازی پر پھر احتجاج
66ایک زبان دو ملک
پنجابی کانگریس حکومت کی سرپرستی میں
66کابینہ یا اسمبلی
کابینہ کا اجلاس، اسمبلی کا منظر پیش کرے گا۔
66دوپٹے پر ہنگامہ
مرد ارکان اسمبلی نگاہیں نیچی رکھیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد