BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 22 June, 2005, 07:36 GMT 12:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بجٹ سیشن کے بائیکاٹ کا اعلان

فائل فوٹو
پچھلے سال بجٹ کےموقع پربلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن نےاحتجاج کیاتھا۔
صوبہ بلوچستان کا آئندہ سال کا بجٹ بدھ شام پیش کیا جا رہا ہے جبکہ مخلوط حکومت میں شامل مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے کچھ وزراء اور اراکین اسمبلی نے اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

وزیر اعلی بلوچستان جام محمد یوسف اور مجلس عمل سے تعلق رکھنے والے سینیئر صوبائی وزیر مولانا عبدالواسع نے گزشتہ دنوں کہا تھا کہ یہ خسارے کا بجٹ ہو گا اور مرکز کے وعدوں اور یقین دہانیوں پر تیار کیا گیا ہے۔

حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں سے منگل کےروز ایک اخباری کانفرنس میں حکومت کی کارکردگی پر حقائق نامہ جاری کیا ہے جس میں مالی بے ضابطگیوں ، خالی اسامیوں پر تعیناتی میں بے قاعدگیوں اور تعلیم اور صحت کے حوالے سے ناقص منصوبہ بندی جیسے الزامات عاید کئے ہیں۔

قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ اس حقائق نامے یا وائٹ پیپر جاری کرنے کا مقصد عوام کو مجلس عمل اور مسلم لیگ کے قائدین کی اصل صورتحال سے آگاہ کرنا ہے جو ایک طرف اسلام اور مشرف کے کرپشن سے پاک معاشرے کی بات کرتے ہیں اور دوسری جانب ایسی تیکنیکی بے ضابطگیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں جو پہلے کبھی کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔

انہوں نے اعدادو شمار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ترقیاتی فنڈز میں وزیر اعلی سینیئر صوبائی وزیر ایڈیشنل چیف سیکرٹری وزیر اعلی کے پرنسپل سیکرٹری فنانس منسٹر اور دیگر وزراء نے کتنے کتنے فنڈز لیے ہیں۔

ادھر مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر شیر جان بلوچ نے بھی ترقیاتی فنڈز میں چند اضلاع کو ترجیح دینے جیسے الزامات لگا ئے ہیں اور کہا ہے کہ مسلم لیگ کے سولہ ارکان جن میں چھ وزراء بھی شامل ہیں آج بجٹ اجلاس کا بائیکاٹ کریں گے۔ انھوں نے کہا ہے کہ اس وقت مجلس عمل صوبائی حکومت پر حاوی ہے اور انھوں نے اس بارے میں مرکزی قیادت کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ان کے ساتھ سابق وزیر اعظم ظفراللہ جمالی کے بھائی عبدالرحمان جمالی اور کزن جان محمد جمالی شامل ہیں ۔

اس بارے میں مجلس عمل کے سینیئر صوبائی وزیر مولانا عبدالواسع اور صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی سے بارہا رابطے کی کوشش کی گئی لیکن رابطہ نہ ہو سکا۔ تاہم کچھ روز قبل مولانا عبدالواسع نے کہا تھا کہ ان کے دور میں ریکارڈ ترقیاتی کام ہوئے ہیں صوبے میں بہتر سڑکیں بن رہی ہیں بہتر تعلیمی ادارے قائم کیے گئے ہیں اور صحت کی سہولیات لوگوں کو مہیا کی جا رہی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد