BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 29 June, 2004, 17:42 GMT 22:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باہر احتجاج اندر بجٹ منظور

بلوچستان
بلوچستان اسمبلی کے باہر احتجاج ہو رہا تھا اور اندر حزب اقتدار بجٹ منظور کر چکی تھی
بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف کے اراکین نے بجٹ اجلاس کے دوران اسمبلی کے سامنے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور قائدین نے کہا ہے کہ حزب اختلاف کے اراکین ترقیاتی منصوبوں میں عدم توازن کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے۔

بلوچستان کے آئندہ سال کے بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے خلاف حزب احتلاف کے اراکین کئی روز سے مظاہرے کر رہے ہیں آج حکومت نے اس وقت جلدی جلدی بـجٹ منظور کر لیا جب حزب اختلاف کے اراکین اسمبلی کے سامنے سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور قائدین کے ہمراہ احتجاجی مظاہرہ کر رہے تھے۔

حزب احتلاف کے اراکین کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز پختونخواہ ملی عوامی پارٹی نیشنل پارٹی جمہوری وطن پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ سے ہے۔

انھوں نے آج اسمبلی کے سامنے پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی میں وفاقی اور صوبائی حکومت کے علاوہ جنرل پرویز مشرف کی پالیسیوں کی مذمت کی ہے ۔ اس موقع پر مختلف جماعتوں کے کارکن اپنے اپنے قائدین اور جماعت کی پالیسیوں پر مبنی نعرے لگا تے رہے۔

قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ وزیراعلی جام محمد یوسف اور مجلس عمل سے تعلق رکھنے والے سینیئر وزیر مولانا عبدالواسع نے پانچ ارب روپے سے زائد کے منصوبے اپنے اپنے علاقوں کے لیے منظور کیے ہیں جبکہ کل ترقیاتی بجٹ بارہ ارب روپے کے لگ بھگ ہے۔ باقی اضلاع کو کیا ملے گا۔ حکومت کی اس پالیسی کے خلاف انھوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس ہفتے بلوچستان ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے تاکہ عدلیہ کو بھی اس ناانصافی سے آگاہ کیا جا سکے۔

بلوچستان
احتجاج میں حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے حصہ لیا

وزیر اعلی نے کہا ہے کہ انھوں نے کوئی جلد بازی میں بجٹ منظور نہیں کرایا ہے بلکہ یہ سب معمول کے مطابق ہوا ہے تاہم حزب اختلاف کے خدشات دور کرنے کے لیے اس بارے میں ایک کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جس کا اجلاس سپیکر بلوچستان اسمبلی جمال شاہ کاکڑ بلائیں گے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جمال شاہ نے کہا ہے کہ وہ اس کمیٹی میں ثالث کا کردار اس وقت تک ادا نہیں کریں گے جب تک دونوں جانب سے انھیں یقین دہانی کرائی جاتی کے ان کے فیصلے کو دونوں تسلیم کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ اس بارے میں ان کی رولنگ موجود ہے جس میں انھوں نے واضح کیا ہے کہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے اراکین بیٹھ کر مسئلے کا حل نکالیں۔

حزب اختلاف کے رکن عبدالرحیم زیارتوال نے ایوان میں کہا تھا کہ اگر سپیکر ذمہ داری لیں تو وہ حکومت کے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔

احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ لشکری رئیسانی رؤف لالہ حبیب جالب ایڈووکیٹ اور دیگر نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے زیادہ فنڈز اپنے قبضے میں رکھے ہیں پھر صوبہ پنجاب کو سب سے زیادہ فنڈز دیے ہیں اور سب سے کم فنڈز اس غریب اور پسماندہ صوبے کو دیے ہیں۔

گوادر منصوبے اور تین نئی فوجی چھاونیوں کے قیام کی مخالفت کرتے ہوئے انھوں نے کہا ہے کہ ان کی تحریک حکومتی منصوبوں کے خلاف جاری رہے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد