بلوچستان میں بجٹ پر احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان اسمبلی کے حزب اختلاف کے ارکان نے صوبائی بجٹ کے خلاف مظاہرہ کیا ہے اور شہر کی سڑکوں پر شدید نعرہ بازی کی ہے جبکہ ایوان کے اندر حکومت اور بجٹ مخالف نعروں پر مبنی بینر آویزاں کیے گئے تھے۔ قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ کی سربراہی میں حزب اختلاف کے ارکان نے اسمبلی سے کوئٹہ پریس کلب تک جلوس نکالا اور صوبائی بجٹ کےترقیاتی منصوبوں میں مختلف اضلاع کونظر انداز کرنے پر زبردست احتجاج کیا ہے۔ حزب اختلاف میں شامل سیاسی جماعتوں نیشنل پارٹی، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل)، جمہوری وطن پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرینز کے ارکان شامل تھے۔ حزب اختلاف کے ارکان بجٹ میں ترقیاتی سکیموں کی تقسیم پر احتجاج کررہے ہیں انھوں نے کہا ہے کہ صرف چند اضلاع کو اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے دیے گئے ہیں اور یہ اضلاع وہ ہیں جہاں سے مجلس عمل اور مسلم لیگ کے باثر وزراء تعلق رکھتے ہیں اس کے علاوہ صوبے کے بیشتر اضلاع کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے جسے انھوں نے ایک غلط روایت قرار دیا ہے۔ حزب اختلاف کے ارکان ایوان کے اندر آج تیسرے روز بھی نعرہ بازی کرتے رہے اور بجٹ اجلاس کی کارروائی کے دوران شور شرابا کرتے رہے۔ بعض اراکین نے دھمکی آمیز الفاظ استعمال کئے جس کا وزیراعلی جام محمد یوسف نے سختی سے نوٹس لیا اور کہا کہ وہ اس مسئلےپر تب تک کوئی یقین دہانی نہیں کرائیں گے اور نہ ہی کسی قسم کی کمیٹی قائم کریں گے جب تک ایوان کے اندر آویزاں بینر ہٹایا نہیں جاتا ۔ بینر ایوان کے اندر چھپا کر لایا گیا تھا جس پر نااہل حکومت مردہ باد اور بجٹ نامنظور جیسے نعرے درج تھے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ کچھ روز قبل مسلم لیگ کے مرکزی جنرل سیکرٹری مشاہد حسین کے کوئٹہ کے دورے کے دوران مسلم لیگی اراکین اسمبلی نے بھی بجٹ میں ترقیاتی سکیموں کے تقسیم پر احتجاج کیا تھا اور کہا تھا کہ مجلس عمل کو جھنڈے اور مسلم لیگیوں کو ڈنڈے مل رہے ہیں۔ شکایت کرنے والے ارکانِ اسمبلی کا کہنا تھا کہ کسی ایک ضلع کو دو ارب روپے کے منصوبے اور مسلم لیگ کے رکن کے ضلع کو صرف دو کروڑ روپے کے منصوبے ملے ہیں ۔ ان اراکین نے جام یوسف کی سربراہی میں قائم صوبائی حکومت میں بیشتر اراکین اسمبلی کو نظر انداز کرنے پر سخت احتجاج کیا تھا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ سب کچھ زیادہ سے زیادہ فنڈز حاصل کرنے کے لیے کیا جارہا ہے اس وقت صوبائی بجٹ میں سکیمیں حاصل کرنےکے لیے اراکین اسمبلی سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ صوبہ بلوچستان میں ہر سال ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص رقم کا کچھ حصہ استعمال نہیں ہو پاتا جس کی وجہ سے اکثر فنڈز واپس کردیے جاتے ہیں اس سال اب جبکہ مالی سال ختم ہونے کو ہے مختلف علاقوں میں تیزی سے کام شروع کردیا گیا ہے اوریہ کام نہ ہونے کے برابر ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||