بلوچستان میں آٹا ملوں کی ہڑتال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں آٹے ملز کے مالکان نے گندم کی عدم فراہمی کی وجہ سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال شروع کرتے ہوئے ملز بند کر دی ہیں۔ بلوچستان میں آٹے کی قیمتوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جبکہ صوبے میں آٹے کی چالیس ملوں میں گندم نہ ہونے کی وجہ سے انہیں بند کر دیا گیا ہے۔ آٹا ملوں کی تنظیم کے جنرل سیکرٹری نعمت اللہ نے کہا ہے کہ صوبہ پنجاب نے گندم کی بین الصوبائی ترسیل پر پابندی عائد کر رکھی ہے جس سے دیگر صوبوں کی ملیں بند ہو رہی ہیں۔ صوبہ بلوچستان کی آٹا ملوں میں تقریباً دس ہزار مزدور کام کرتے ہیں جن کے بے روزگار ہونے کا خدشہ ہے۔ بلوچستان کی ملوں میں روزانہ چالیس سے پینتالیس ہزار بوری گندم کی پسائی ہوتی ہے۔ لیکن اب تک نہ تو صوبائی حکومت نے اپنی خریداری کی ہے اور نہ ہی پنجاب انھیں گندم دے رہا ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی حکومت انھیں بھارت یا تاجکستان سے گندم کی خریداری کی اجازت دے کیونکہ بیرونی ممالک سے درآمد کی جانے والی گندم اعلی معیار کی ہوتی ہے اور پنجاب کی گندم سے سستی پڑتی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ بلوچستان اور سرحد پر افغانستان میں آٹے کی سمگلنگ کا الزام عائد کیا جاتا ہے لیکن اب تو دونوں صوبوں کے پاس نہ گندم ہے اور نہ آٹا اس لئے اب افغانستان کو آٹے کی سمگلنگ کون کر رہا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ظاہر ہے اس وقت آٹا صرف پنجاب کے پاس ہے اور وہی اس کی سمگلنگ کر رہا ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ گزشتہ دنوں وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی نے پنجاب حکومت کو گندم کی فراہمی کی بات کہی تھی۔ لیکن بقول ملز مالکان تاحال گندم کی فراہمی شروع نہیں ہوئی ہے۔ اس بارے میں گزشتہ دنوں سینیئر صوبائی وزیر مولانا عبدالواسع سے رابطہ قائم کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ صوبہ پنجاب کے پاس صرف گندم ہے اور اس پر وہ پہلے اپنے مفادات دیکھ رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اپنی گیس کی فراہمی کا بھی از سرے نوجائزہ لے اور اس حوالے سے صوبہ سندھ اور سرحد کی حکومت کے ساتھ رابطہ کرکے مشترکہ پالیسی بھی اپنائی جا سکتی ہے کیونکہ گندم کی قلت سندھ اور سرحد میں بھی پائی جاتی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ پنجاب کے اس فیصلے سے دیگر صوبوں کی صنعتیں بند ہو رہی ہیں اور ہزاروں مزدور بے روزگار ہو رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||