بلوچستان اسمبلی: سخت احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بدھ کے روز بلوچستان اسمبلی کے اندر اور باہر مظاہرے ہوتے رہے۔ ایوان کے اندر بجٹ تقریر کے دوران حزب اختلاف کےاکین نے بجٹ تقریر کی کاپیاں پھاڑ ڈالیں اور نعرہ بازی کرتے رہے جبکہ اسمبلی گیٹ کے باہر خواتین اور صحافی احتجاج میں مصروف رہے۔ ان مظاہروں کے دوران پولیس نے صرف صحافییوں پر لاٹھی چارج کیا ہے۔ صوبائی وزیر خزانہ سید احسان شاہ نے آج بلوچستان کا پونے تینتالیس وپے کا بجٹ پیش کیا جس میں محاصل کا خسارہ پونے تین ارب روپے متوقع ہے۔ حزب اختلاف نے اسے عوام دشمن بجٹ قرار دیتے ہوئے بجٹ تقریر کی کاپیاں پھاڑ ڈالیں اور قطبے لے کر وزیر خزانہ کے سامنے مظاہرہ کرتے رہے۔ بعد میں تقریر کے اختتام تک حزب اختلاف کی نعرہ بازی جاری رہی۔ حزب اختلاف کے ن صوبائی اسمبلی رحمت علی بلوچ نے کہا ہے کہ یہ صرف قلعہ سیف اللہ اور لسبیلہ کا بجٹ ہے کیونکہ ایک شہر سے سینیئر صوبائی وزیر مولانا عبدالواسع کا تعلق سے اور دوسرے شہر سے وزیراعلی جام محمد یوسف تعلق رکھتے ہیں اور باقی شہروں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔انھوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر صوبے کے تمام اضلاع کو برابری کی بنیاد پر فنڈز نہ دیے گئے تو یہ بجٹ اجلاس چلنے نہیں دیں گے اور وزیراعلی سیکرٹریٹ کے سامنے مطاہرہ کریں گے۔ اسمبلی گیٹ کے سامنے خواتین نے مظاہرہ کرتے ہوئے نعرہ بازی کی۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ایدھی ہومز کوئٹہ کو بند کیا جائے۔ خواتین کی قیادت نائلہ قادری کر رہی تھیں جبکہ مظاہرین میں دو خواتین ایک گنج بی بی اور صوبہ سرحد کے شہر صوابی سے تعلق رکھنے والی افسر بی بی شامل تھیں جنھوں نے مظاہرے کے دوران کہا ہے کہ ایدھی ہومز میں ان کے ساتھ زیادتیاں ہوئی ہیں۔
گنج بی بی نے اس موقع پر کہا ہے کہ ان زیادتیوں کے نتیجے میں اس کی ایک بچی پیدا ہوئی ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کے گزشتہ سال اسی طرح کچھ خواتین نے ایدھی ہومز کے خلاف مظاہرہ کیا تھا جس کے بعد بقول ایدھی کے ایدھی ہومز کوئٹہ کے عملے کو معطل کردیا گیا تھا جبکہ گنج بی بی سے زیادتی کرنے والا ملزم گرفتار ہے۔ اس کے علاوہ صحافیوں نے اخبار کے مالکان کے رویے اور اشتہاری مہم کے خلاف مظاہرہ کیا ہے اور زبردست نعرہ بازی کی ہے۔ اس موقع پر ایک ڈی ایس پی نے صحافیوں پر لاٹھی چارج کا حکم دے دیا جس سے حالات بگڑ گئے اور صحافیوں نے اسمبلی احاطے کے اندر نعرہ بازی کی ۔ ڈپٹی سپیکر اسلم بھوتانی اور وزیر صحت حافظ حمداللہ نے صحافیوں کو تسلی دی اور کہا ہے کہ ان کے مطالبات اعلی حکام تک پہنچا دیے جائیں گے۔ بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر رضا الرحمان نے اس موقع پر کہا ہے کہ اخبار مالکان اپنے اخبارات کا استعمال کرکے جھوٹ پر مبنی اشتہارات شائع کر رہے ہیں۔ بلوچستان میں اخبار کے مالکان ایک رپورٹر اور سب ایڈیٹر کو اٹھارہ سو روپے تنخواہ بھی نہیں دیتے جبکہ کروڑوں روپے کے اشتہارات ماہانہ لے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ ان کا احتجاج ویج بورڈ کے نفاذ تک جاری رہے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||