BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان میں بھی افواہیں

جام یوسف
بلوچستان کے وزیراعلیٰ جام یوسف جا کا کہنا ہے کہ اگر عبدالرحمٰن جمالی کی پاس اکثریت ہے تو ثابت کریں

ظفراللہ جمالی کے وزارت عظمٰی کے عہدے سے استعفے کے بعد بلوچستان میں چہ مگوئیاں ہورہی ہیں اور افواہوں کا بازار گرم ہے۔

استعفی پر عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ مقتدر قوتوں نے ہی انھیں وزیراعظم بنایا تھا اور انھی کے کہنے پر استعفی دیا ہے اس میں کوئی ان ہونی نہیں ہے جبکہ طفراللہ جمالی کے اپنے آبائی گاؤں میں لوگ سوگوار ہیں۔

روجھان جمالی سے بیشتر لوگوں کو استعفی پر یقین نہیں آرہا ہے اور اگر کچھ لوگوں تک یہ اطلاع پہنچ چکی ہے تو انھوں نے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ جو کچھ بھی ہو ان کے علاقے سے ایک وزیراعظم منتخب ہوا تھا اسے مدت پوری کرنے دیتے۔

جعفر آباد اور روجھان جمالی میں کچھ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ لوگ کچھ بات نہیں کرتے اور خاموش ہیں۔

بلوچستان کے دیگر علاقوں میں ملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ صوبائی دارالخلافہ میں لوگ وفاق سے زیادہ صوبائی حکومت کی تبدیلی کی باتیں کرتے نظر آئے ہیں۔

یہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ بلوچستان کے وزیراعلی کو تبدیل کرکے ظفراللہ جمالی کے بھائی عبدالرحمان جمالی کو وزیراعلی بلوچستان بنایا جا رہا ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ سابق وزیراعلی بلوچستان جان محمد جمالی دوبارہ وزیراعلی بن رہے ہیں اور بقول ان کے اس وقت جان جمالی صوبائی حکومت سے خوش نہیں ہے بلکہ بلوچستان اسمبلی میں مسلم لیگ کے ہم خیال اراکین کے ایک گروپ کی قیادت کر رہے ہیں جن میں جعفر مندوخیل طارق مگسی شاہ زمان رند وغیرہ شامل ہیں۔

جان جمالی کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان کے تعلقات چوہدری برادران سے کافی اچھے ہیں اور بقول مبصرین کے مقتدر قوتوں کے بھی کافی قریب ہیں۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ گزشتہ روز مسلم لیگ کے مرکزی جنرل سکریٹری مشاہد حسین نے یہاں کوئٹہ کے دورے کے دوران مسلم لیگ کے ایک اجلاس میں شرکت کی تھی جہاں پارٹی کے قائدین اراکین اسمبلی اور کارکنوں نے دل کھول کر گلے شکوے کیے شکایتیں لگائیں اور سارے پول کھول کر رکھ دیے کہ کون کیا ہے جس کا مطب یہ تھا کہ پارٹی میں بڑی بڑی دراڑیں پائی جاتی ہیں کوئی خوش نہیں ہے۔

مجلس عمل کے صوبائی اراکین پر تنقید کی گئی اور کہا گیا کہ جام یوسف کچھ بھی نہیں ہیں اصل قیادت مجلس عمل کے پاس ہے۔

آج وزیراعلی بلوچستان جام محمد یوسف نے ان افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بدستور وزیراعلی ہے اور ان کے استعفے یا انھیں ہٹانے کی باتوں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ ان سے جب کہا گیا کہ عبدالر حمان جمالی کو وزیراعلی بنایا جا رہا ہے تو انھوں نے کہا کہ اگر ان کے پاس اکثریت ہے تو ایوان میں ثابت کر دیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد