پاسپورٹ ’ایلیٹ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’دور حاضر کا نیا ’سٹیسٹس سمبل‘ یعنی سماجی مرتبے کی علامت آپ کے پاسپورٹ کی نوعیت ہے ۔‘ یہ بات برطانوی مصنف ہری کُنزرو نے اپنے نئے ناول ’ٹرانسمِشن‘ کے بارے میں بات کرتے ہوئے بی بی سی سے ایک انٹرویو میں کہی۔ ’آج کل کی دنیا میں آپ کا درجہ آپ کی شہریت اور پاسپورٹ کے مطابق ہوتا ہے، جن لوگوں کے پاس کئی خاص پاسپورٹ ہیں وہ دنیا بھر میں پھر سکتے ہیں جبکہ دوسرے ممالک کے پاسپورٹ والوں کے ایک سے دوسرے ملک جانے پر ہر طرح کی پاندیاں ہیں۔ ‘ ہری کنزرو کا کہنا تھا کہ ابھی اس بڑھتے ہوئے امتیازٰ میں بہت دلچسپی ہے کیونکہ ایک طرف تو ’گلوبلائزیشن‘ یعنی عالمگیریت کا چرچہ ہے جبکہ اصل میں عالمی نا ہمواری میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ان کی کتاب ’ٹرانسمِشن‘ میں مرکزی کردار ارجُن نامی ایک بھارتی نوجوان کا ہے۔ وہ آئی ٹی اور کمپیوٹرز کا ماہر ہے اور نوکری کے سلسلے میں امریکہ چلا جاتا ہے جہاں پہنچ کر اسے احساس ہوتا ہے کہ اس کی صلاحیتوں کے صحیح قدر نہیں کی جا رہی۔ ارجن ای میل کے ذریعے دنیا میں ایک انٹرنیٹ وائرس پھیلا دیتا ہے جس سے عالمی ہنگامہ مچ جاتا ہے۔ ارجن کو خیال ہوتا ہے کہ وہ اس وائرس کا علاج کر کے ہیرو بن جائے گا اور اس کو بہتر ملازمت کے مواقع مل جائیں گے۔ وائرس کا نام وہ اپنی پسندیدہ بالی وڈ اداکارہ لیلا پر رکھتا اور یوں ’لیلا وائرس‘ سے تہلکا مچ جاتا ہے۔ ہری کنزرو کی اس کتاب میں دور حاضر کے ایک عـیب و غریب تضاد کو دکھایا گیا ہے یعنی یہ کہ ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ کی موجودگی اور آسان رابطوں کے باوجود دنیا کے شہریوں میں فاصلے کم ہونے کے بجائے بڑھتے جا رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||