BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 13 August, 2005, 02:22 GMT 07:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاپتہ بلوچ رہنما پولیس حراست میں

علی نواز گوہر بلوچ اور اختر ندیم بلوچ
علی نواز گوہر بلوچ اور اختر ندیم بلوچ
ساڑھے چار ماہ قبل کراچی میں لاپتہ ہوجانے والے بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے تین رہنما ڈرامائی طور پر پنجاب کےضلع رحیم یار خان کی صادق آباد پولیس کی حراست میں پائے گئے ہیں۔

صادق آباد پولیس نے تصدیق کی ہے کہ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ، ان کے بھائی علی نواز گوہر بلوچ اور اختر ندیم بلوچ نامی افراد کو صدر تھانے کے علاقے چندرامی میں مشکوک حرکات کرنے پر جمعرات کی شب حراست میں لیاگیا ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ان کے پانچ اور ساتھی بھی تھے جو فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

پولیس نے جمعے کے روز گرفتار ’ملزمان‘ کو ایک مقامی عدالت میں پیش کر کے رہزنی کے ایک پرانے مقدمے میں ان کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا۔

بی ایس او کے سابق چیئرمین ڈاکٹر اللہ نذر، علی گوہر اور اختر ندیم اس سال چوبیس مارچ کو کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے اپنے چار دیگر ساتھیوں بی ایس او (متحدہ) کے موجودہ چیئرمین ڈاکٹر امداد بلوچ، ڈاکٹر یوسف بلوچ، ڈاکٹر نسیم بلوچ اور غلام رسول بلوچ سمیت لاپتہ ہوگئے تھے۔

ڈاکٹر امداد بلوچ کے والد میر نور جان بلوچ نے سندھ ہائی کورٹ میں اپنے بیٹے اور ان کے ساتھیوں کی بازیابی کے لئے درخواست دی اور ساتھ ہی الزام لگایا تھا کہ ان سب کو پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے اغوا کیا ہے۔ غائب ہونے سے چند روز قبل بی ایس او کے رہنماؤں نے ڈیرہ بگٹی میں ڈاکٹر شازیہ خالد کے ساتھ ہونے والی مبینہ جنسی زیادتی اور اس سے پیدا ہونے والی صورتحال کے خلاف کراچی میں ایک احتجاجی مظاہرہ منظم کیا تھا۔

تاہم اٹھارہ مئی کے روز اچانک خبر آئی کہ پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان کی سخی سرور پولیس نے چار مشکوک افراد کو حراست میں لیا ہے جن کے نام ڈاکٹر امداد، ڈاکٹر یوسف، ڈاکٹر نسیم اور غلام رسول ہیں۔ بعد میں ان چاروں کو چوری کے ایک سال پرانے ایک مقدمے میں پانچ روز تک زیر تفتیش رکھا گیا اور پھر یہ کہہ کر رہا کردیا کہ ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا۔

رہائی پانے کے بعد ڈاکٹر امداد بلوچ نے کوئٹہ اور کراچی میں اخباری کانفرنسوں سے خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا کہ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے رینجرز کی مدد سے اغوا کیا اور پھر کراچی ہی میں نامعلوم جگہ پر ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بناتے رہے ۔ بعد میں کوئٹہ کے بدنام زمانہ قلی کیمپ میں بھی انہیں حالات کے تحت رکھا گیا۔

ڈاکٹر اللہ نذر، علی گوہر اور اختر ندیم کی بازیابی کے لیئے بی ایس او کے سہراب بلوچ اور جمہوری وطن پارٹی کے عبدالغفار ساسولی دو اگست سے کوئٹہ میں تادم مرگ بھوک ہڑتال کئے ہوئے ہیں جبکہ بی ایس او نے چودہ اگست کے روز بلوچستان کے گورنر ہاوس کی طرف لانگ مارچ کرنے کا اعلان بھی کر رکھا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد