BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 16 July, 2005, 13:19 GMT 18:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچوں کے مخلص: حکومت یا سردار؟

بلوچستان میں فوجی کارروائی کشیدگی کا باعث رہی ہے
بلوچستان میں فوجی کارروائی کشیدگی کا باعث رہی ہے
میرا بلوچستان کی سرزمین سے بہت گہرا، پرانا اور نہ ختم ہونے والا رشتہ ہے۔ میں بلوچستان میں پیدا ہوا، بچپن میں وہیں کھیلا کودا، اور تعلیم حاصل کی۔ زندگی کے پہلے پچیس سال گزارے۔ آج کل میں بلوچستان سے بہت دور ہوں مگر انٹرنیٹ کی مہربانی سے یہ دوری بہت حد تک محسوس نہیں ہوتی۔ بلوچستان کے بارے میں بہت کچھ چھپتا رہتا ہے، کبھی گورنمنٹ کی طرف سے بیانات کہ بلوچستان دبئی بننے والا ہے، تو کبھی سرداروں اور نوابوں کی طرف سے کہ گورنمنٹ بلوچوں سے جھوٹ بول رہی ہے۔

سیاسی پارٹیاں بھی کچھ نہ کچھ کہتی رہتی ہیں جیسا کہ بلوچ اگر ان کے پلیٹ فارم کو جوائن کرلیں تو سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ اخبارات کی حد تک تو ایسا لگتا ہے جیسے بلوچستان اور بلوچوں کے خیرخواہ بہت ہیں اس لئے وقت آنے پر سب ٹھیک ہوجائے گا۔ لیکن جب میں ماضی میں جھانکتا ہوں، حال کو دیکھتا ہوں اور مستقبل کا سوچتا ہوں تو کچھ بھی ٹھیک نہیں لگتا۔

پاکستانی معیشت بلوچستان پر منحصر ہے، بلوچستان کی گیس پورے پاکستان کی میعشت کو سپورٹ کرتی ہے۔ بلوچستان کے منرل سے سندھ اور پنجاب کے بہت سے کارخانے چلتے ہیں اور پاکستان کا ستر فیصد سے زیادہ ساحلی علاقہ بلوچستان میں ہے۔ پھر بھی لوگوں کو زندگی کی بنیادی سہولیات مہیا نہیں ہیں۔ گورنمنٹ اس بارے میں کہتی ہے کہ وہ بہت کچھ کرنا چاہتی ہے مگر سردار نواب رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔

اگر حکومت کی بات مان لیں تو بھی پچھلے اٹھاون سالوں میں گورنمنٹ نے مکران ڈویژن میں کیا کیا؟ کھران، چاغی میں ایسے کون سے طاقتور سردار ہیں جو گورنمنٹ کو کچھ نہیں کرنے دیتے؟ جمالی اور مگسی تو ہمیشہ گورنمنٹ کے ساتھ رہے ہیں، گورنمنٹ نے وہاں کتنے ترقیاتی کام کیے ہیں؟ ان باتوں پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت بلوچوں کے ساتھ مخلص نہیں۔

دوسری جانب سرداروں اور نوابوں کے رہن سہن کے انداز کو دیکھا جائے تو حیرت ہوتی ہے۔ عالیشان گھروں میں رہنے والے، ایئرکنڈیشنڈ مہنگی گاڑیوں میں پھرنے والے، پرائیوٹ آرمی رکھنے والے، دوسرے بلوچوں کا طاقت کی زور پر استحصال کرنے والے، کس طرح سے بلوچستان یا بلوچوں سے مخلص ہونے کا دعویٰ کرسکتے ہیں؟ ان کے نزدیک تو خدا نے ان کو پیور بلوچ بنایا ہے اور دوسرے بلوچوں کو سیکنڈ کلاس، ایسے لوگ بھی بلوچوں کے مسائل کے ذمہ دار ہیں۔

اور رہی آزادی کی بات تو فی الحال اس لئے کامیاب نہیں ہوسکتے کہ بلوچستان میں کوئی نیلسن منڈیلا جیسا پیدا نہیں ہوا، بلوچستان کو ایک مخلص کی ضرورت ہے جو اپنی ضروریات، عیش و آرام اور ذاتی انا کو چھوڑکر کچھ کرنے کی سوچے۔ جہاں تک بلوچستان کی آزادی کو سوال ہے تو ایک دن تو ایسا ہونا ہے۔



نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کا صفحہ قارئین کا، قارئین کے لئے ہے۔ قارئین کے مضامین سے بی بی سی کا اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی کسی موضوع پر کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو لکھ بھیجیں۔
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
66آپ کے مضامین
خصوصی ضمیمہ: آپ کی آواز، آپ کی تحریر
66آپ کے عنوانات
کہتی ہے تجھے خلق خدا کیا کیا
66آپ کی کہانیاں
خصوصی ضمیمہ: بچھڑے ہوئے لوگ
66گلوبلائزیشن کیا ہے
ضمیمہ: گلوبلائزیشن کی دستک
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد