بی ایل اے کی مبینہ کارکن گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان سے ملحقہ پنجاب کے ضلع راجن پور میں پولیس نے دو مبینہ شر پسندوں کی گرفتاری کا اعلان کیا ہے جن کے بارے پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ بلوچ لبریشن آرمی کے کہنے پر سرکاری تنصیبات پر حملوں میں ملوث رہے ہیں۔ گرفتار افراد کے نام اللہ بخش کھتران اور یاسین سہرانی بتائے گئے ہیں۔ کھتران کا تعلق بلوچستان کے ضلع بارکھان سے جب کہ سہرانی کا راجن پور کے علاقے لال گڑھ سے ہے۔ دونوں کو جامپور پولیس نے مبینہ ڈکیتی کی ایک ناکام واردات کے دوران گرفتار کیا۔ دوران تفتیش ملزموں نے پولیس کو بتایا کہ وہ ڈکیتی، رہزنی اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں کے علاوہ بلوچ لبریشن آرمی کے لیے بھی کام کرتے ہیں۔ جامپور تھانہ کے انچارج شاہ عالم گشکوری نے بتایا کہ ملزموں کا کہنا ہے کہ انہوں نے حال ہی میں تیس ہزار روپوں کے عوض بی ایل اے کے کہنے پر بارکھان کے علاقے رکنی میں بجلی کی مین ٹرانسمیشن لائن کو کامیابی کے ساتھ بم سے اڑایا تھا۔ تھانہ انچارج کا کہنا تھا کہ ملزمان بی ایل اے کے پس پردہ کارفرما قوتوں کے حوالے سے بگٹی اور مری قبائل کے کچھ سرکردہ افراد کا نام لے رہے ہیں تاہم پولیس تفتیش جاری رکھے ہوئے ہے۔ملزموں کے قبضے سے متعدد کلاشنکوف اور رائفلیں بھی برآمد کی گئی ہیں۔ کچھ عرصے سے بلوچستان اور اس سے ملحقہ پنجاب کے اضلاع ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں سرکاری تنصیبات پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور ان میں سے اکثر وارداتوں کی ذمہ داری زیر زمین کام کرنے والی تنظیم بلوچ لبریشن آرمی یا بی ایل اے نے قبول کی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||