’سینٹریفیوج ایران کے کہنے پر‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے سینٹریفیوجز کو ایران کی درخواست پر جوہری توانائی کے عالمی ادارے کو معائنہ کے لیے پیش کر رہا ہے۔ کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے استعمال شدہ سینٹریفیوجز کو آئی اے ای آے کے حوالےاس لیے حوالے کر رہا ہے تاکہ ان کا ایران کے سینٹریفیوجز سے موازنہ کر کے یہ ثابت کیا جاسکے کہ ایران کو سینریفیوجز پاکستان نے فراہم نہیں کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سینٹریفیوجز کا معائنہ پاکستانی سائنسدانوں کی موجودگی میں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور بین الاقوامی ادارے دونوں کی طرف سے پاکستان کو سینٹریفیوجز فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ خورشید قصوری نے کہا کہ ایران کہتا ہے کہ اس کو سینٹریفیوجز پاکستان نے فراہم کیے ہیں جب کہ بین الاقوامی طور پر یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ سینٹریفیوجز ایران نے خود تیار کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس شرط پر اپنے سینٹریفویجز کے حصے فراہم کرنے پر تیار ہوا تھا کہ ان کا معائنہ پاکستان کے سائسندانوں کی موجودگی میں کیا جائے گا اور یہ بین الاقوامی ادارے کے ماہرین کے حوالے نہیں کیے جائیں گے۔ پاکستانی سائنسدان ان سینٹریفوجز کو معائنے کے بعد واپس پاکستان لے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان سینٹرفیوجز کے حصوں کی جوہری توانائی کے عالمی ادارے کو فراہمی سے پاکستان کے جوہری پروگرام پر کوئی آنچ نہیں آئے گی۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ پاکستان کو ایف سولہ طیارے اس لیے فراہم کیے جارہے ہیں کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے معائنہ کے لیے رضا مند ہو گیا ہے۔ ایران کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں خورشید قصوری نے کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی تیسرے ملک کو ایران کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ کچھ دن قبل صدر جنرل پرویز مشرف نے ایک انٹرویو میں اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ پاکستان جوہری توانائی کے عالمی ادارے کو سینٹریفیوجز فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس سے قبل شیخ رشید احمد نے الزام عائد کیا تھا ایران کو سینٹریفیوجز ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے فراہم کیے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||