BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 December, 2005, 15:26 GMT 20:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوجی کارروائی: اسمبلی اجلاس

بلوچستان اسمبلی
سےاسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کے لیے درخواست حزبِ اختلاف نے دی ہے
بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف نے کوہلوں اور ڈیرہ بگٹی میں فوجی کارروائی کے حوالے سےاسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کی درخواست دی ہے جبکہ ادھر ڈیرہ بگٹی کوہلو اور بارکھان کے سرحدی علاقے بیکڑ کے قریب سکیورٹی فورسز نے حملہ کیا ہے جس میں اٹھارہ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔

قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ اور دیگر پارلیمانی لیڈروں نے ایک اخباری کانفرنس میں بتایا ہے کہ اسمبلی کا اجلاس جلد بلایا جائے تاکہ عوامی نمائندے کوہلو اور ڈیرہ بگٹی کی صورتحال پر بحث کر سکیں۔

پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر عبدالرحیم زیارتوال سے جب پوچھا گیا کہ بلوچستان اسمبلی سے پہلے کئی قراردادیں پاس کی جا چکی ہیں لیکن ان پر عمل درآمد نہیں ہوا ہے اب بحث کرکے آپ کیا حاصل کریں گے تو انھوں نے کہا ہے کہ ہماری ذمہ داری ہم پوری کریں گے اب اگر کوئی نہیں سنتا ہے تو وہ اس ملک کا نقصان کرے گا۔

یاد رہے گورنر نے بلوچستان اسمبلی کا اجلاس پہلے تییس جنوری کو طلب کیا تھا پھر ستائیس جنوری تک ملتوی کر دیا گیا ہے اس اجلاس میں توقع ہے کہ صدر پرویز مشرف کے کوہلو کے دورے کے دوران راکٹ باری کے واقعہ کی مذمت کی جائے گی۔

ادھر بلوچستان نیشنل پارٹی کے لیڈر سینیٹر ثناء بلوچ نے کہا ہے کہ ڈیرہ بگٹی کوہلو اور بارکھان کے سرحدی علاقے میں بیکڑ کے قریب خرچہ کے مقام پر فورسز نے نو ہیلی کاپٹروں سے حملے کیے ہیں جس میں اٹھارہ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ کوئٹہ میں فرنٹییر کور کے ترجمان نے کہا ہے کہ بیکڑ کے قریب نا معلوم افراد نے سیکیورٹی فورسز کے دستے پر راکٹ داغے جس پر فورسز نے کارروائی کی لیکن ہلاکتوں کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

رکن صوبائی اسمبلی بالاچ مری نے کہا ہے کہ کاہان ترتانی نساؤ اور دیگر علاقوں میں فورسز نے شدید حملے کیے ہیں جس میں لگ بھگ اسی افراد ہلاک اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں جس میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ سبی سے بارکھان تک مختلف مقامات پر حملے ہو رہے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کاہان میں پہلے سے ایف سی موجود ہے تو یہ کس علاقے پر قبضے کی بات کر رہے ہیں۔

گورنر بلوچستان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں فوجی آپریشن نہیں ہو رہا ایف سی کی کارروائی ہو رہی ہے

ادھر کوہلو سے سابق صوبائی وزیر محبت خان مری نے کہا ہے کہ کوہلو میں حالات معمول کے مطابق ہیں فورسز صرف ان مقامات پر کارروائی کر رہی ہے جہاں مشتبہ افراد روپوش ہیں۔

اس کے علاوہ مکران ڈویژن سے دودا بلوچ نا می شخص نے ٹیلیفون پر بتایا ہے کہ مند میں ایف سی کی کیمپ پر راکٹ داغے گئے ہیں جس کی ذمہ داری وہ بلوچ لبریشن فرنٹ کی طرف سے قبول کرتے ہیں۔

اسی بارے میں
کوہلو میں کشیدگی برقرار
18 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد