فوجی کارروائی کے خلاف مظاہرے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں خواتین اور بچوں نے کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں فوجی کارروائی کے خلاف مظاہرے کیے ہیں۔ یہ مظاہرے کوئٹہ کے علاوہ نوشکی بلیدہ گوادر تربت ڈیرہ اللہ یار اور دیگر علاقوں میں ہوئے ہیں۔ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے خواتین اور بچوں نے کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں فوجی کارروائی کے خلاف سخت نعرہ بازی کی ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ خواتین نے بینر اور قطبے اٹھا رکھے تھے جن پر کوہلو میں فوجی کارروائیوں کی مذمت کی گئی تھی۔ ان خواتین نے کہا ہے فوجی کارروائی بلوچوں کو ختم کرنے کے لیے شروع کی گئی ہے لیکن حکمرانوں کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہو گی۔ نیشنل پارٹی کی رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر شمع اسحاق نے کہا ہے کہ کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں فوجی کارروائی سے اگر کوئی زخمی قریبی علاقوں کے ہسپتالوں میں لایا جاتا ہے تو انھیں ہسپتالوں میں داخل ہی نہیں کیا جاتا۔ انھوں نے کہا ہے کہ فوج کا کام سرحدوں کی حفاظت ہے لیکن یہاں اپنے لوگوں پر بمباری کی جا رہی ہے۔ دیگر خواتین نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت بلوچستان کے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتی ہے اور اس لیے یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے وگرنہ صدر مشرف پر حملے تو پنڈی اور کراچی میں ہو چکے ہیں لیکن وہاں کوئی فوجی کارروائی نہیں کی گئی۔ نوشکی میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینیئر نائب صدر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی اور سیدہ نائلہ قادری کی صدرارت میں جلوس نکالا گیا جس میں خواتین اور بچوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ہے۔ | اسی بارے میں ’کوہلو :سو سے زیادہ ہلاک ہوچکے ‘24 December, 2005 | پاکستان ’ کوہلو:6 کیمپ تباہ، 7 ابھی باقی ‘24 December, 2005 | پاکستان ’فوجی کارروائی فوراً بند کی جائے‘24 December, 2005 | پاکستان فوجی کارروائی: اسمبلی اجلاس 24 December, 2005 | پاکستان کوہلو: ہلاکتوں کے متضاد دعوے25 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||