کوہلو: ہلاکتوں کے متضاد دعوے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں جاری فوجی کارروائی کے حوالے سے سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ صرف مشتبہ افراد کے فراری کیمپوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ قوم پرست لیڈر اور مقامی لوگوں نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز ان علاقوں میں بھر پور حملے کر رہی ہیں جس میں بھاری اسلحہ بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ کوہلو میں جاری آپریشن کے آٹھ روز بعد بھی علاقے سے متضاد اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ کوہلو اور ڈیرہ بگٹی کے مقامی لوگ اسّی سے زیادہ افراد کی ہلاکت کا دعوٰی کر رہے ہیں جبکہ سرکاری سطح پر ان اطلاعات کی تردید کی جا رہی ہے۔ بلوچستان میں انسانی حقوق کے عہدیدار ظہور شاہوانی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ آئندہ کچھ روز میں انسانی حقوق کی ایک ٹیم ان علاقوں کا دورہ کرنے کی کوشش کرے گی جس میں حقائق سامنے لائے جائیں گے۔ اسی دوران گزشتہ روز بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ اور دیگر پارلیمانی لیڈروں نے ایک اخباری کانفرنس میں مطالبہ کیا ہے کہ اسمبلی کا اجلاس جلد بلایا جائے تاکہ عوامی نمائندے کوہلو اور ڈیرہ بگٹی کی صورتحال پر بحث کر سکیں۔ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر عبدالرحیم زیارتوال سے جب یہ پوچھا گیا کہ بلوچستان اسمبلی اس سلسلے میں پہلے کئی قراردادیں منظور کر چکی ہے لیکن ان پر عمل درآمد نہیں ہوا ہے لہذٰا اب بحث کر کے کیاحاصل ہو گا، تو انہوں نے کہا کہ’ یہ ہماری ذمہ داری ہے اور ہم اسے پورا کریں گے۔ اب اگر کوئی نہیں سنتا ہے تو وہ اس ملک کا نقصان کرے گا‘۔ یاد رہے گورنر نے بلوچستان اسمبلی کا اجلاس پہلے تیئیس جنوری کو طلب کیا تھا مگر پھر اسے ستائیس جنوری تک ملتوی کر دیا گیا۔ اس اجلاس میں توقع ہے کہ صدر پرویز مشرف کے کوہلو کے دورے کے دوران راکٹ باری کے واقعہ کی مذمت کی جائے گی۔ ادھربلوچستان نیشنل پارٹی کے لیڈر سینیٹر ثناء بلوچ نے کہا ہے کہ ڈیرہ بگٹی کوہلو اور بارکھان کے سرحدی علاقے میں بیکڑ کے قریب خرچہ کے مقام پر فورسز نے نو ہیلی کاپٹروں سے حملے کیے ہیں جس میں اٹھارہ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ کوئٹہ میں فرنٹیئر کور کے ترجمان نے کہا ہے کہ بیکڑ کے قریب نامعلوم افراد نے سکیورٹی فورسز کے دستے پر راکٹ داغے جس پر فورسز نے کارروائی کی لیکن ہلاکتوں کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ رکن صوبائی اسمبلی بالاچ مری نے کہا ہے کہ کاہان، ترتانی، نساؤ اور دیگر علاقوں میں فورسز نے شدید حملے کیے ہیں جس میں لگ بھگ اسّی افراد ہلاک اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں جس میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سبی سے بارکھان تک مختلف مقامات پر حملے ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کاہان میں پہلے سے ایف سی موجود ہے تو یہ کس علاقے پر قبضے کی بات کر رہے ہیں۔ کوہلو سے سابق صوبائی وزیر محبت خان مری نے کہا ہے کہ کوہلو میں حالات معمول کے مطابق ہیں۔ فورسز صرف ان مقامات پر کارروائی کر رہی ہے جہاں مشتبہ افراد روپوش ہیں۔ | اسی بارے میں ’فوجی کارروائی فوراً بند کی جائے‘24 December, 2005 | پاکستان فوجی کارروائی: اسمبلی اجلاس 24 December, 2005 | پاکستان ’کوہلو:چھ کیمپ تباہ، سات ابھی باقی ‘24 December, 2005 | پاکستان کوہلو: اے آر ڈی احتجاج کرے گی23 December, 2005 | پاکستان کوئی فوجی آپریشن نہیں ہو رہا: گورنر21 December, 2005 | پاکستان ’ کوہلوفوجی آپریشن میں 50 ہلاک‘20 December, 2005 | پاکستان بلوچستان: کوہلو میں’فوجی آپریشن‘ 19 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||