بلوچستان میں ’فتح‘ کا فوجی منصوبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
معدنی ذخائر سے مالامال لیکن ترقیاتی اعتبار سے انتہائی پسماندہ بلوچستان کے ضلع کوہلو میں جاری حالیہ فوجی کارروائی کو اگرچہ صدر جنرل پرویز مشرف کے دورہ کے موقع پر نامعلوم عناصر کی طرف سے ہونے والی مبینہ راکٹ باری کا ردعمل قرار دیا جارہا ہے لیکن حالات و واقعات بتاتے ہیں کہ اس علاقے کو ’فتح‘ کرنے کی منصوبہ بندی کافی عرصے سے جاری تھی۔ مبصرین کے مطابق اسی منصوبہ بندی کے تحت لارڈ میکاؤلے کے سنہری اصول ’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘ پر عمل کرتے ہوئے حکومت نے کوہلو کے مری قبیلے کی اندرونی دھڑے بندی کو مزید تقویت دی۔ مری قبیلے کے سربراہ نواب خیر بخش مری کے مخالفین کو سیاسی، مالی اور عسکری اعتبار سے مضبوط کرنے کا عمل کچھ عرصے سے جاری تھا۔ اسی حکمت عملی کے تحت مری قبیلے کے ایک ہزار افراد پر مشتمل لیویز فورس بھرتی کی گئی جسے نواب اکبر بگٹی خفگی کے اظہار کے طور پر ’بجارانی فورس‘ کہتے ہیں کیونکہ بھرتی کیے گئے افراد میں سے اکثریت کا تعلق مری قبیلے کی ذیلی شاخ بجارانی سے ہے اور اس کی قیادت بھی ’گوریلا کمانڈر‘ کہلائے جانے والے میر ہزار خان بجارانی کے پاس ہے۔ مری قبیلہ تین بنیادی شاخوں گزنی، لوہرانی اور بجارانی پر مشتمل ہے۔ نواب خیر بخش مری اور ان کے خاندان کا تعلق گزنی شاخ سے ہے۔گزنیوں کو ہیڈکوارٹر کہان، لوہرانیوں کا نساؤ اور بجارانیوں کا کوہلو ہے۔ یہ ضلع تین تحصیلوں کوہلو، ماوند اور کہان پر مشتمل ہے۔ کوہلو میں جاری حالیہ فوجی کارروائی، جسے حکومت ’شر پسندوں‘ کے خلاف ایکشن جبکہ بلوچ قوم پرست ’فوجی جارحیت‘ قرار دے رہے ہیں، کا نشانہ مجموعی طور پر وہ علاقے ہیں جو تحصیل کہان میں شمار کیے جاتے اور وہاں نواب خیر بخش کے وفادار لوگ آباد ہیں۔
اگرچہ مری قبائلی رہنما اب اس بات سے انکاری ہیں کہ کہان میں عسکری تربیت کے مراکز یا ’فراری کیمپ‘ ہیں۔ لیکن پچھلے سال جولائی کے مہینے میں کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے کچھ صحافیوں کو مبینہ طور پر نواب خیر بحش مری کے بیٹے ایم پی اے بالاچ مری کی ایماء پر کہان کا دورہ کرایا گیا اور بعد میں ملک کی اردو و انگریزی پریس میں کچھ ایسی شہ سرخیوں ’بلوچ قوم پرست دوبارہ مسلح جدوجہد کے راستے پر‘ یا ’بیک ٹو دی ہلز‘ کے ساتھ کہان کے عسکری تربیت کے مراکز کی تفصیلات مع تصاویر شائع ہوئیں۔ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کی صوبائی حکومت کی برخاستگی کے بعد جب کوہلو پر فوج کشی کی گئی تو مری قبیلہ اپنے سردار نواب خیر بخش مری کی سرکردگی میں پہاڑوں پر مورچہ بند ہوگیا تھا۔ اس مسلح مزاحمت میں نواب خیر بخش کے سپہ سالار تھے میر ہزار خان بجارانی اور شیر محمد بجارانی جو بعد میں ’جنرل شیروف‘ کے نام سے بھی مشہور ہوئے۔ مری مزاحمت کار بعد میں افغانستان ہجرت کر گئے اور بلوچستان میں فراریوں کے نام سے پہچانے جانے لگے۔ افغانستان میں جلا وطنی کے سترہ اٹھارہ سال کے دوران نواب خیر بخش اور ان کے ’سپہ سالاروں‘ کے درمیان اختلافات جڑ پکڑ گئے جن کا باقاعدہ اعلان وطن واپسی پر بجارانی شاخ کے ایک جرگے کے ذریعے غالباً سن انیس سو اکیانوے میں کیا گیا۔
نواب اور بجارانیوں میں اختلافات کی خلیج اس وقت مزید بڑھ گئی جب بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس میر نواز (بجارانی) مری کو کوئٹہ میں فائرنگ کر کے قتل کیا گیا۔ اس قتل کا مقدمہ اگرچہ نواب خیر بخش اور ان کے بیٹوں پر درج کیا گیا لیکن ان کے قریبی ذرائع ہمیشہ کہتے رہے ہیں کہ اس واردات کے پیچھے پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کا ہاتھ ہے جو ’لڑاؤ اور حکمرانی‘ کرو کے اصول پر کاربند ہیں۔ نواب مری اس مقدمے میں ایک سال تک جیل میں بھی رہے۔ تاہم بعد میں انہیں ایک عدالت نے اس الزام سے بری کر دیا۔ جسٹس نواز مرحوم کے بھائی سابق صوبائی وزیر میر محبت خان کوہلو میں مشرف حکومت کے سب سے بڑے اتحادی ہونے کے دعویدار ہیں اور فوجی چھاؤنی کے قیام کے پر جوش حامی ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ فوج کی موجودگی سے ہی علاقے میں ترقیاتی منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچ سکتے ہیں۔ حکومتوں اور با اثر اداروں سے قریبی تعلقات کے حوالے سے میر نور احمد مری بھی کوہلو میں خاصی اہمیت رکھتے ہیں اور اس حوالے سے انہوں نے جنرل ایوب کے دور سے لیکر جنرل مشرف کے موجودہ دور تک نواب اور حکومتوں کے درمیان مختلف اوقات میں ’پل‘ کا جو کردار ادا کیا ہے اسے چھپانے کی کوشش بھی نہیں کرتے۔ ان خدمات کا انہیں صلہ بھی خوب ملتا ہے۔ ان کے بیٹے نصیب اللہ کوہلو کے پہلے ضلع ناظم تھےجبکہ اس دفعہ انہوں نے میر محبت خان کے مقابلے میں نواب کے امید وار علی گل کی حمایت کر کے اسے ضلع ناظم اور اپنے چھوٹے بیٹے نثارکو تحصیل ناظم بنوایا ہے۔ چودہ دسمبر کو جب جنرل مشرف کوہلو آئے تو میر نور احمد ان کا استقبال کرنے والوں میں پیش پیش تھے۔
تاہم ان کا کہنا ہے کہ نواب کے ساتھ حکومتی معاملات طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ صرف مذاکرات سے حل ہونگے۔ میر نور احمد کہتے ہیں کہ مرکزی حکومت کو بلوچستان میں اپنے بارے میں اس رائے کو تبدیل کرنے کے لیے اقدامات کرنے پڑیں گے کہ وہ اس پسماندہ صوبے کی ترقی میں نہیں بلکہ صرف معدنی و ساحلی وسائل میں دلچسپی رکھتی ہے۔ لیکن اس وقت فوج کوہلو میں نواب کی عسکری طاقت سے نبٹنے کے لیے مقامی سرداروں میں سے سب سے زیادہ انحصار میر ہزار خان بجارانی پر ہی کر رہی ہے۔ میر ہزار کی لیویز فورس کو جدید ہتھیاروں سے مسلح کرنے کے علاوہ لاتعداد فور بائی فور گاڑیاں اور سیٹلائیٹ فون بھی دیے گئے ہیں۔ میر ہزار نے اپنا ہیڈ کوارٹر تھدڑی کے مقام پر بنا رکھا ہے جو کہ نواب کے وفادار قبائلیوں کی جندران میں قائم پناہ گاہوں کے عین سامنے ہے۔ اعلیٰ فوجی حکام میر ہزار سے تفصیلی مشاورت کے لیے تھدڑی کے دور افتادہ پہاڑی مقام پر جاتے رہتے ہیں۔ میر ہزار نے بھی کور کمانڈر کوئٹہ کی طرف سے ملنے والی ایک اعزازی تلوار اپنے مہمان خانے کے صدر دروازے پر لٹکا رکھی ہے۔ تاہم اپنی نجی محفلوں میں وہ پاکستان کے ’مستقل‘ حکمرانوں کے خلوص پر شک کرتے ہوئے اکثر وزیریستان کی مثال دیتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ وہاں کےقبائلیوں کو پہلے سوویت یونین کے خلاف ’جہاد‘ کے نام پر لڑایا گیا اور اب وہی جہادی عناصر ’روشن خیالی‘ کے لیے تختہ ستم بنے ہوئے ہیں۔ |
اسی بارے میں کوہلو میں کشیدگی برقرار18 December, 2005 | پاکستان کوہلو: ’جھڑپوں کا سلسلہ جاری‘22 December, 2005 | پاکستان ’ کوہلو:6 کیمپ تباہ، 7 ابھی باقی ‘24 December, 2005 | پاکستان فوجی کارروائی: اسمبلی اجلاس 24 December, 2005 | پاکستان فوجی کارروائی کے خلاف مظاہرے25 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||