کاہان: ’بلوچ سہمے ہوئے ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کاہان اور تلی میں لوگ سہمے ہوئے ہیں اور اجنبی لوگوں سے ملنے پر یہ وضاحت ضرور کرتے ہیں کہ وہ مری نہیں ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیم کے عہدیداروں کے ساتھ سبی کے راستے کاہان کے حدود تک جانے والے صحافی ذولفقار نے بتایا ہے کہ تلی کے قریب راستے میں ملنے والے لوگ کسی بڑی گاڑی کو دیکھ کر سلام ضرور کرتے جس پر وہ یہ سمجھے کہ شاید وہ ان کے ساتھ جانا چاہتے ہیں لیکن پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ وہ سلام کر رہے تھے۔ اس طرح کی گاڑیوں کو دیکھ کر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید فرنٹیئر کور کے افسران جا رہے ہیں۔ ذولفقار نے بتایا ہے کہ تلی اور پھر تلی سے کافی آگے تک انہیں آبادی کم ہی نظر آئی۔ اکثر جن خانہ بدوشوں یا چرواہوں کا ذکر کیا جاتا ہے وہ بھی نظر نہیں آئے جس پر انسانی حقوق کی تنظیم کے عہدیداروں نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ لوگوں کا چلے جانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہاں کچھ ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ کچے راستوں پر بڑے بڑے پہیوں کے نشان تھے جو یہ ظاہر کر رہے تھے کہ یہاں سے بڑی گاڑیاں یا شاید ٹینک وغیرہ گزرے ہیں۔
ذولفقار نے بتایا ہے کہ تلی کے قریب فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے انہیں روک لیا اور آگے نہیں جانے دے رہے تھے جس پر انسانی حقوق کی تنظیم کے عہدیدار کافی غصہ ہوئے۔ دو گھنٹے بعد ایک ٹریکٹر کے پیچھے آنے والی گاڑی میں سوار ایف سی کے میجر آئے جن سے ملنے کے بعد انہیں اجازت تو دی لیکن ساتھ یہ کہا کہ آگے بارودی سرنگیں بھی بچھی ہوئی ہیں، خطرہ بہت ہے وہ خود بھی ٹریکٹر کے پیچھے گاڑی میں سفر کررہے ہیں۔ ذولفقار نے بتایا کہ ان کے خدشات کے باوجود وہ آگے گئے لیکن انہیں کوئی فراری کیمپ یا ایسے مشتبہ افراد کہیں نظر نہیں آئے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ مری قبیلے کے لوگ الگ تھلگ ہیں اور وہ خود گھبرائے ہوئے ہیں۔ تلی کے قریب علاقوں میں لوگ زراعت کے پیشے سے وابستہ ہیں اور اب گاڑیاں نہ ہونے کی وجہ سے لوگ پیدل آتے جاتے ہیں۔ خوراک کی کمی کا احساس ہو رہا تھا کہ پبلک ٹرانسپورٹ کو جانے کی اجازت نہیں ہے پیدل یہ سامان نہیں لے جایا جاسکتا۔ دور دراز پہاڑوں پر کچھ مکان نظر آئے لیکن اب وہاں ایف سی کے اہلکار کھڑے تھے، اس کے علاوہ ایف سی کے اہلکار دور دور پہاڑوں پر بھی موجود تھے۔ ہلاکتوں کے بارے میں کہیں سے کوئی تصدیق نہیں کرائی جا سکی۔ سبی ہسپتال میں کوئی زخمی نہیں لایا گیا لیکن اس ہسپتال میں ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ ایمرجنسی نافذہے۔ |
اسی بارے میں ’فوجی آپریشن کی تیاری جاری ہے‘10 December, 2005 | پاکستان کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں حالات کشیدہ17 December, 2005 | پاکستان بلوچستان: کالا باغ ڈیم پر تقسیم 17 December, 2005 | پاکستان کوہلو میں مزید حملوں کی اطلاعات 21 December, 2005 | پاکستان ’فوجی کارروائی‘ کےخلاف مظاہرے22 December, 2005 | پاکستان ’ کوہلو:6 کیمپ تباہ، 7 ابھی باقی ‘24 December, 2005 | پاکستان فوجی کارروائی: اسمبلی اجلاس 24 December, 2005 | پاکستان بلوچستان میں ’فتح‘ کا فوجی منصوبہ27 December, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||