BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 27 December, 2005, 23:33 GMT 04:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کاہان: ’بلوچ سہمے ہوئے ہیں‘

جہاں یا تو ریگستان ہے یا فرنٹیئر کور
کاہان اور تلی میں لوگ سہمے ہوئے ہیں اور اجنبی لوگوں سے ملنے پر یہ وضاحت ضرور کرتے ہیں کہ وہ مری نہیں ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیم کے عہدیداروں کے ساتھ سبی کے راستے کاہان کے حدود تک جانے والے صحافی ذولفقار نے بتایا ہے کہ تلی کے قریب راستے میں ملنے والے لوگ کسی بڑی گاڑی کو دیکھ کر سلام ضرور کرتے جس پر وہ یہ سمجھے کہ شاید وہ ان کے ساتھ جانا چاہتے ہیں لیکن پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ وہ سلام کر رہے تھے۔

اس طرح کی گاڑیوں کو دیکھ کر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید فرنٹیئر کور کے افسران جا رہے ہیں۔

ذولفقار نے بتایا ہے کہ تلی اور پھر تلی سے کافی آگے تک انہیں آبادی کم ہی نظر آئی۔ اکثر جن خانہ بدوشوں یا چرواہوں کا ذکر کیا جاتا ہے وہ بھی نظر نہیں آئے جس پر انسانی حقوق کی تنظیم کے عہدیداروں نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ لوگوں کا چلے جانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہاں کچھ ہو رہا ہے۔

اس کے علاوہ کچے راستوں پر بڑے بڑے پہیوں کے نشان تھے جو یہ ظاہر کر رہے تھے کہ یہاں سے بڑی گاڑیاں یا شاید ٹینک وغیرہ گزرے ہیں۔

انسانی حقوق تنظیم کی عاصمہ جہانگیر کوہلو کے دورے پر
انسانی حقوق تنظیم کی عاصمہ جہانگیر کوہلو کے دورے پر

ذولفقار نے بتایا ہے کہ تلی کے قریب فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے انہیں روک لیا اور آگے نہیں جانے دے رہے تھے جس پر انسانی حقوق کی تنظیم کے عہدیدار کافی غصہ ہوئے۔ دو گھنٹے بعد ایک ٹریکٹر کے پیچھے آنے والی گاڑی میں سوار ایف سی کے میجر آئے جن سے ملنے کے بعد انہیں اجازت تو دی لیکن ساتھ یہ کہا کہ آگے بارودی سرنگیں بھی بچھی ہوئی ہیں، خطرہ بہت ہے وہ خود بھی ٹریکٹر کے پیچھے گاڑی میں سفر کررہے ہیں۔

ذولفقار نے بتایا کہ ان کے خدشات کے باوجود وہ آگے گئے لیکن انہیں کوئی فراری کیمپ یا ایسے مشتبہ افراد کہیں نظر نہیں آئے۔

انہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ مری قبیلے کے لوگ الگ تھلگ ہیں اور وہ خود گھبرائے ہوئے ہیں۔ تلی کے قریب علاقوں میں لوگ زراعت کے پیشے سے وابستہ ہیں اور اب گاڑیاں نہ ہونے کی وجہ سے لوگ پیدل آتے جاتے ہیں۔ خوراک کی کمی کا احساس ہو رہا تھا کہ پبلک ٹرانسپورٹ کو جانے کی اجازت نہیں ہے پیدل یہ سامان نہیں لے جایا جاسکتا۔

دور دراز پہاڑوں پر کچھ مکان نظر آئے لیکن اب وہاں ایف سی کے اہلکار کھڑے تھے، اس کے علاوہ ایف سی کے اہلکار دور دور پہاڑوں پر بھی موجود تھے۔

ہلاکتوں کے بارے میں کہیں سے کوئی تصدیق نہیں کرائی جا سکی۔ سبی ہسپتال میں کوئی زخمی نہیں لایا گیا لیکن اس ہسپتال میں ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ ایمرجنسی نافذہے۔

آپریشن کی تیاری
بلوچستان میں فوجی آپریشن کی تیاری جاری
جام محمد یوسفبلوچستان بٹ گیا
بلوچستان کالا باغ ڈیم کی تعمیر پر بٹ گیا
وزراء کی خاموشی
کوہلو میں فوجی آپریشن پر کوئی نہیں بولتا
کارروائی یا منصوبہ؟
بلوچستان میں ’فتح‘ کا فوجی منصوبہ
اسی بارے میں
فوجی کارروائی: اسمبلی اجلاس
24 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد