BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 09 January, 2006, 15:52 GMT 20:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حملہ آئی ایس آئی کے ایجنٹوں نے کیا‘
اکبر بگٹی اپنے قبیلے کے افراد کے ہمراہ
اکبر بگٹی اپنے قبیلے کے افراد کے ہمراہ
بگٹی قبیلے کے سربراہ اور جمہوری وطن پارٹی کے صدر نواب اکبر بگٹی کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر پر ہونے والا حملہ’ مری قبیلے سے تعلق رکھنے والے آئی ایس آئی کے تنخواہ دار ایجنٹوں‘ نے کیا ہے۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ خود انہوں نے صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو ڈیرہ بگٹی آنے کی دعوت دی تھی تاکہ وہ لوگ آ کر خود صورتحال کا جائزہ لیں اور وہ جگہیں دیکھیں جہاں گولے گرے ہیں اور تباہی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ’جب وہ لوگ اپنی ٹیم لے کر آئے تو راستے میں انہیں ڈرانے کے لیے ان پر فائرنگ کروائی گئی۔ ان لوگوں پر مزاری گوٹھ کے کچھ افراد نے حملہ کیا۔ اس علاقے میں ایسے افراد ہیں جو سالہاسال سے آئی ایس آئی اور ایف سی کے تنخواہ دار ایجنٹ ہیں اور ہم انہیں جانتے ہیں کیونکہ ایسے واقعات پہلے بھی ہوتے رہے ہیں‘۔

اکبر بگٹی کا کہنا تھا کہ’ ان حملوں کے ذمہ دار افراد کی نشاندہی چند روز میں ہو جائے گی کیونکہ ہمارے معاشرے میں کوئی بات چھپی نہیں رہ سکتی اور ہمیں یقین ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں‘۔

اس سوال پر کہ اس حملے سے کس قسم کا مفاد وابستہ ہو سکتا ہے، نواب بگٹی کا کہنا تھا کہ ’پہلے تو صرف سنی سنائی بات تھی کہ یہاں لڑائی ہو رہی ہے۔ اب اگر یہ افراد یہاں آئے ہیں تو اب جا کر اعلانیہ کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے تباہی دیکھی ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ان افراد کے علاقے میں آنے کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ پورے دن کسی قسم کی گولہ باری نہیں ہوئی ہے اور اب کل یہ افراد چلے جائیں گے تو پھر دیکھیں گے‘۔

انسانی حقوق کمیشن کے اس وفد میں شامل کوئٹہ کے صحافی ایوب ترین نے ڈیرہ بگٹی کی صورتحال بی بی سی کو بتایا کہ ’شہر بالکل سنسان ہے اور زیادہ تر مقامی لوگ علاقہ چھوڑ کر جا چکے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ شہر کے مختلف حصوں میں میں راکٹ لگنے کے نشانات ہیں اور ان نشانات کے بارے میں ایف سی کے کمانڈنٹ کرنل فرقان کا کہنا ہے کہ ’ایف سی نے کسی قسم کے راکٹ فائر نہیں کیے ہیں بلکہ گولیوں اور راکٹ کے نشانات اس فائرنگ کے ہیں جو ایف سی پر بگٹی قبائل کی جانب سے کی جاتی ہے‘۔

ایوب ترین کا کہنا ہے کہ ’ڈیرہ بگٹی شہر کا زیادہ تر حصہ ایف سی کے قبضے میں ہے اور علاقے میں حفاظتی چوکیاں بنائی گئی ہیں۔ دوسری جانب نواب بگٹی کے قلعے کے آس پاس ان کے مسلح حامیوں کا پہرہ ہے‘۔

اسی بارے میں
ڈیرہ بگٹی محاصرے میں: بگٹی
07 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد