BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 08 January, 2006, 15:27 GMT 20:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انسانی حقوق کمشن:وفد پر فائرنگ

عاصمہ جہانگیر
وفد میں انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ بھی شامل تھیں(فائل فوٹو)
انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر نے دعوی کیا ہے کہ ان کی قیادت میں ڈیرہ بگٹی کے علاقے میں جانے والے ایک وفد پر دو نامعلوم افراد نے فائرنگ کی ہے۔تاہم ان کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر نے بتایا ہے کہ ان کی قیادت میں ایک وفد کشمور کے راستے ڈیرہ بگتی جانے کو کوشش کر رہا تھا کہ اس پر دو نامعلوم افراد نے فائرنگ کی۔

عاصمہ جہانگیر نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو اس واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ’ ہم کشمور سے آگے مزاری کوٹ رینجرز چیک پوسٹ سے کچھ فاصلے پر پہنچے ہی تھے کہ ہماری گاڑیوں پر فائرنگ شروع ہوگئی۔ دو آدمیوں نے باقاعدہ نشانہ لے کر ہماری گاڑی پرگولیاں چلائیں۔ گاڑی ریورس کرنے پر ان مسلح افراد نے ہمارا پیچھا کیا تاہم بعدازاں وہ لوگ فرار ہوگئے‘۔

عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ ’ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ ہمارے لیے پیغام ہے کہ ہم ایسی جگہوں پر جانے کی کوشش نہ کریں جہاں حکومت نہیں چاہتی کہ کوئی جا کر دیکھے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے‘۔

ادھر ڈیرہ بگٹی جانے کی کوشش کرنے والا صوبائی انسانی حقوق کمیشن کا ایک وفد بھی روکے جانے کی وجہ سے ڈیرہ بگٹی نہ پہنچ سکا۔ یہ دوسری مرتبہ ہے کہ بلوچستان میں کشیدگی اور جھڑپوں کے شکار علاقوں میں حالات جاننے کے لیے جانے والا انسانی حقوق کمیشن کا وفد متاثرہ علاقوں مییں پہنچ نہیں پایا ہے۔ اس سے پہلے گزشتہ ماہ کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر کو بھی حکام نے کوہلو اور ڈیرہ بگٹی جانے سے روک دیا تھا۔

نیم فوجی ادارے بلوچستان میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن میں مصروف ہیں

بلوچ قوم پرست حلقوں اور سرکاری حکام نے اس بارے میں مختلف موقف اپنایا ہے۔ جمہوری وطن پارٹی کے ترجمان شاہد بگٹی کے مطابق وفد کے میزبانوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ڈیرہ بگٹی کے نزدیک سنگ سیلا کے مقام پر فرنٹیئر کانسٹیبلری نے کمیشن کے صوبائی صدر ظہوراحمدشاہوانی کی قیادت میں جانے والے وفد کو روک لیا اور مزید آگے جانے کی اجازت دینے کے بجائے واپس کردیا۔وفد میں بی بی سی کی پشتو سروس کے نمائندے ایوب ترین سمیت کچھ صحافی بھی شامل تھے۔

شاہد بگٹی نے دعوٰی کیا کہ اب وفد کو علاقے کے لوگ بعض نسبتاً غیرمعروف راستوں سے شہر میں لے جا رہے ہیں اور وفد اتوار کو رات تک ڈیرہ بگٹی پہنچ جائے گا۔

تاہم کوئٹہ میں فرنٹئیر کانسٹیبلری کے ترجمان کرنل حسن جمیل نے بتایا کہ سنگ سیلا کے مقام پر وفد کو روکا نہیں گیا تھا صرف آگے راستے کے ممکنہ خطرات سے آگاہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا وفد کو مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ ڈیرہ بگٹی کے لیے کشمور کا راستہ اختیار کرے کیونکہ سنگ سیلا سے آگے سڑک مستقل فائرنگ کی زد میں ہے اور اس راستے پر بارودی سرنگیں بھی ہوسکتی ہیں جن سے ایف سی کی دو گاڑیاں تباہ بھی ہوچکی ہیں۔ انہوں نے سختی سے تردید کی کہ وفد کو ایف سی نے روکا یا واپس کیا ہے۔

دوسری جانب جنوبی علاقے مچھ میں گزشتہ روز راکٹ حملوں کے بعد اتوار کو کشیدگی رہی۔ علاقے کے ایک سرکاری انتظامی افسر کے مطابق مچھ کے آس پاس پہاڑوں میں مسلح افراد اور فرنٹئیر کانسٹیبلری کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کی تو اطلاعات ہیں لیکن کسی جانی نقصان کے بارے میں کوئی خبر نہیں ملی ہے۔

کوہلو اور آس پاس کے علاقوں میں بھی کشیدگی پائی جاتی ہے اور مری قومی اتحاد کے ایک ترجمان کے مطابق لیویز اور فرنٹئیر کونسٹیبلری کے اہلکار ترائی، جھبر، مساؤ، ترلی اور کرنوٹ مسلسل فائرنگ اور شیلنگ کے ذریعے خوف و ہراس پھیلارہے ہیں۔

انہوں نے یہ دعوٰی بھی کیا کہ لیویز نے نہ صرف یہ کہ کوہلو سے بارکھان ، سبی اور دوسرے علاقوں کو جانے والے راستے بند کرکے مورچے بنائے ہوئے ہیں اور عام لوگوں کو کو نقل و حرکت سے روکا جارہا ہے۔

اسی بارے میں
مچھ: راکٹ حملے میں ہلاکتیں
07 January, 2006 | پاکستان
ڈیرہ بگٹی میں جھڑپ، نو ہلاک
04 January, 2006 | پاکستان
ڈیرہ بگٹی میں حالات کشیدہ
03 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد