ڈیرہ بگٹی میں جھڑپ، نو ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان کے شہر ڈیرہ بگٹی میں نیم فوجی دستے کے اہلکاروں اور بگٹی قبائل کے مابین جھڑپ میں نو افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں کی جا رہی۔ ادھر نوشکی کے قریب ریل کی پٹڑی کو دھماکے سے اڑا دیا ہے۔ ڈیرہ بگٹی سے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ بدھ کی شام دونوں جانب سے شدید گولہ باری اور فائرنگ ہوئی ہے جس سے تین مرد دو خواتین اور چار بچوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ جمہوری وطن پارٹی کے جنرل سیکرٹری آغا شاہد بگٹی نے کہا ہے کہ گل نامی ایک شخص کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ باقی آٹھ کی غیر مصدقہ اطلاع ہے۔ واقعہ چونکہ رات کے وقت پیش آیا ہے اس لیے اس وقت اس کی تصدیق نہیں کی جاسکی۔ مقامی صحافی نصیر بگٹی نے کہا ہے کہ گرلز سکول اور ماڈل سکول کی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ مقامی لوگوں نے کہا ہے کہ اس قدر شدید گولہ باری ہوئی ہے کہ کوئی گھر سے نکل نہیں سکتا، یہاں تک کہ پولیس تھانے کے اندر موجود ہے اور انتظامیہ کے تمام افسران ڈیرہ بگٹی چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ ڈیرہ بگٹی کے ضلعی رابطہ افسر عبدالصمد لاسی خود ڈیرہ بگٹی سے سوئی منتقل ہو چکے ہیں۔ انھوں نے بتایا ہے کہ یہ صحیح نہیں ہے کہ عورتیں اور بچے ہلاک ہوئے ہیں کیونکہ ڈیرہ بگٹی کی بڑی آبادی شپر چھوڑ کر جاچکی ہے اور علاقہ تقریبًا خالی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے اس جھڑپ میں حملہ آوروں کا نقصان ہوا ہو اور انھیں اس طرح کی اطلاعات موصول بھی ہوئی ہیں۔ ادھر نوشکی میں کشنگی ریلوے سٹیشن کے قریب پل پر دھماکہ ہوا ہے جس سے ریل کی پٹڑی کا تین فٹ حصہ اڑ گیا ہے۔ نوشکی کے ضلعی انتظامی افسر پسند بلیدی نے بتایا ہے کہ ٹریک پر ایک اور بم بھی برآمد ہوا ہے لیکن چونکہ علاقے میں بم ناکارہ بنانے والے ادارے کے اہلکار نہیں ہیں اس لیے کوئٹہ اطلاع کر دی گئی ہے صبح کسی وقت جب ٹیم پہنچے گی تو بم کو ناکارہ بنایا جائے گا۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||