ڈیرہ بگٹی میں حالات کشیدہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان کے شہر ڈیرہ بگٹی میں حالات منگل کے روز بھی کشیدہ رہے لیکن کسی بڑی جھڑپ کی اطلاع نہیں ملی۔ تاہم بگٹی قبائل اور نیم فوجی دستوں کے مابین بیکڑ اور سوئی ڈیرہ بگٹی روڈ پر کچھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ ڈیرہ بگٹی میں کل رات تک جھڑپوں کا سلسلہ مختلف مقامات تک پھیل گیا تھا۔ان میں ڈیرہ بگٹی میں پٹ فیڈر کے قریبی علاقے میں جھڑپیں ہوئی تھیں لیکن کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ منگل کے روز زیادہ تر وقت خاموشی رہی ہے اور کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔ ڈیرہ بگٹی کے ضلعی رابطہ افسر عبدالصمد لاسی نے کہا ہے کہ بگٹی قبائل نے سوئی ڈیرہ بگٹی کے اس راستے پر ایف سی کی چوکی پر حملہ کیا ہے جو لوٹی گیس فیلڈ کی طرف جاتا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ بیکڑ کے علاقے میں جہاں گزشتہ روز ایک کیمپ خالی کرالیا گیا ہے وہاں قبائلیوں نے آج دوبارہ حملہ کیا ہے جسے ایف سی کے اہلکاروں نے ناکام بنا دیا ہے۔ جمہوری وطن پارٹی کے جنرل سیکرٹری آغا شاہد بگٹی نے کہا ہے کہ بیکڑ میں کوئی فراری کیمپ نہیں ہے بلکہ وہاں مقامی آبادی کے لوگ ایف سی کی اہلکاروں کا مقابلہ کر رہے ہیں اور آج بھی وہاں فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔ جانی نقصان کے حوالے سے اب تک متضاد اطلاعات پہنچ رہی ہیں ۔ عبدالصمد لاسی نے کہا ہے کہ حملہ آور بگٹی قبائل کے چھ سے سات افراد زخمی ہوئے ہیں لیکن عام شہریوں، بچوں یا خواتین کو نقصان نہیں پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف سی کی چوکیوں اور ایف سی کے ایک قافلے پرحملے ہوئے ہیں لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ شاہد بگٹی نے پیر کے روز کہا تھا کہ جھڑپوں میں عام شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ایف سی کے تین اہلکار ہلاک ہوئے تھے لیکن ان کی تصدیق تاحال نہیں کرا جاسکی۔ ادھر کوہلو کے علاقے جھبر سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق مقامی آبادی کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ اس کے بر عکس کوہلو کے سابق نائب ناظم ذوالفقار مری نے کہا ہے کہ اس علاقے میں آبادی کوئی نہیں ہے بلکہ یہاں کیمپس ہیں جن کے خلاف فورسز نے کارروائی کی ہے۔ دریں اثناء ڈیرہ بگٹی کے ضلعی رابطہ افسر عبدالصمد لاسی نے کہا ہے کہ سوئی میں نا معلوم افراد نے لوٹی گیس فیلڈ کے پانی کی پائپ اکھاڑ لیے ہیں اور چوکیدار کے کمرے کو توڑدیے ہیں۔ سوئی سے ٹیلیفون پر انہوں نے بتایا ہے کہ یہ واقعہ پیر کی شب جھڑپوں کے دوران پیش آیا۔ لوٹی گیس فیلڈ کو پانی کی ترسیل منقطع ہونے سے گیس کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔ عبدالصمد لاسی نے کہا ہے کہ فیلڈ میں تین دن کا پانی جمع ہے اور ان تین دنوں میں پائپ لائن کی مرمت مکمل کی جائے گی ورنہ پلانٹ کے بند ہونے کا خطرہ ہے جس سےگیس کی ترسیل میں فرق آسکتا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ لوٹی گیس فیلڈ سے گیس کی ترسیل پیرکوہ جاتی ہے جہاں سے یہ سوئی آتی ہے۔ سوئی میں چار گیس فیلڈ ہیں۔ سوئی گیس فیلڈ کے علاوہ تین گیس پلانٹ ہیں جو آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے زیر انتظام ہیں ان میں پیر کوہ‘ لوٹی اور اوچ شامل ہیں۔ | اسی بارے میں بلوچستان:ریلوے پل تباہ، ٹریفک معطل30 December, 2005 | پاکستان فوجی آپریشن کے خلاف مظاہرہ02 January, 2006 | پاکستان ڈیرہ بگٹی میں جھڑپیں جاری02 January, 2006 | پاکستان بلوچوں کی تحریک انٹرنیٹ پر03 January, 2006 | پاکستان بگٹی کے مخالفین فوج کے مددگار03 January, 2006 | پاکستان بلوچستان: بگٹی کے مخالفین فوج کے مددگار03 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||