بگٹی کے مخالفین فوج کے مددگار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بارکھان کےگاؤں مٹ کنڈ کے باشندوں کا کہنا ہے کہ بلوچ شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن کے دوران فرنٹیئر کور کو اکبر بگٹی اور خیر بخش مری کے مخالفین کی مدد حاصل ہے۔ نواب بگٹی کے مورچہ بند مسلح حامیوں کے خلاف اگر ’مسوری فورس‘ کو مضبوط کیا جا رہا ہے تو نواب خیر بخش مری کی عسکری قوت کا مقابلہ کرنے کے لیے میر ہزار خان بجارانی مری کو تیار کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کوہلو میں مری مزاحمت کاروں کے خلاف کاروائی میں میر ہزار خان کے لوگ ریاستی اداروں کے ساتھ ساتھ مصروف عمل ہیں۔ مقامی لوگوں سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق میر غلام قادر مسوری کو مسلح فورس تیار کرانے میں حکومتی اداروں کی مکمل مدد حاصل ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ اس ’مسوری فورس‘ کی قیادت میر کا بیٹا اور بھتیجا کرتے ہیں۔
مقامی افراد کا یہ بھی کہنا ہے کہ فراریوں سے پیکل کی پہاڑی کا قبضہ چھڑوانے کے بعد وہاں فوج کے ساتھ ساتھ مسلح مسوریوں نے بھی اپنے کیمپ قائم کر دیے ہیں۔ صدر جنرل پرویز مشرف کے دورہ کوہلو کے دوران ہونے والی مبینہ راکٹ باری کے ’ردعمل‘ میں بلوچستان میں جاری ریاستی اداروں کی کاروائی کے ابتدائی ایام میں کیے گئے فضائی حملوں میں ہیلی کاپٹروں کے ساتھ ساتھ لڑاکا جیٹ طیارے استعمال ہونے کی بھی اطلاع تھی۔ اگرچہ حکومت اس سے مسلسل انکار کرتی آرہی ہے لیکن فضائی بمباری کا نشانہ بننے والے علاقوں کے قرب و جوار کے لوگوں کے بیانات اور واقعاتی شہادتوں کے بعد یہ بات سامنے آتی ہے کہ مبینہ مزاحمت کاروں کے خلاف فضا سے کی جانے والی کاروائی میں ائر فورس کا استعمال بھی کیا گیا۔ مقامی لوگ طیاروں کی ساخت کے بارے تو زیادہ نہیں جانتے لیکن وہ بتاتے ہیں کہ وہ پلک جھپکتے میں گولہ باری کر کے چلے جاتے تھے۔ مقامی کھیتران سردار شیر محمد چچہ کا کہنا تھا کہ ’جہاز ایک آنکھ سے نظر آتے تھے اور دوسری سے اوجھل ہوجاتے، ان کے غائب ہونے کے بعد علاقہ بموں سے گونج اٹھتا‘۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر پر راکٹ باری بھی بلوچی مہمانداری کی روایات کے خلاف تھی لیکن جواب میں طیاروں سے بمباری کی بھی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ طیاروں کی بمباری سے بیکڑ کے قریب بارکھان کے گاؤں مٹ کنڈ میں ایک سرکاری سکول کی عمارت، ڈسپنسری اور ہوٹل مکمل طور پر تباہ ہوئے نظر آئے۔ گاؤں کے رہائشی عیدو خان مسوری بگٹی نے بتایا کہ ’تین بجے کا وقت تھا کہ جہازوں نے بمباری شروع کردی۔ گاؤں میں تین بم گرے جس سے سب کچھ تباہ ہو گیا۔ انہوں نے بتایا کہ فضائی حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا کیونکہ ممکنہ فوجی کاروائی کے پیش نظر مقامی لوگ پہلے ہی محفوظ مقامات پر نقل مکانی کر گئے تھے‘۔
بارکھان کے مغرب اور جنوب میں واقع جھبر اور پیکل کے پہاڑی مقامات پر مری اور بگٹی قبائل سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں کے مبینہ کیمپ تھے۔ چودہ دسمبر سال دو ہزار پانچ کے روز کوہلو میں جنرل مشرف کی آمد کے موقع پر ہونے والی ’راکٹ باری‘ کے بعد سے شروع فوجی و نیم فوجی دستوں کی مشترکہ کاروائی میں جھبر اور پیکل کی پہاڑیوں اور اردگرد کے مقامات پر بھی فضائی حملے کیے گئے۔ مقامی لوگوں کے مطابق فضائی حملے اس وقت کیے گئے جب بلوچ عسکریت پسندوں نے پہاڑوں کی طرف فوج کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے شدید گولہ باری شروع کر دی۔ فضائی حملے سے پہلے ریاستی اداروں اور عسکریت پسندوں کے درمیان اس وقت گولہ باری کا تبادلہ شروع ہوا جب فوجی دستوں نے بارکھان، کوہلو اور ڈیرہ بگٹی کی ضلعی حدود پر واقع گاؤں مٹ کاچھڑ میں پڑاؤ ڈالا۔ | اسی بارے میں بھارت اپنے کام سے کام رکھے: پاکستان02 January, 2006 | پاکستان ڈیرہ بگٹی میں جھڑپیں جاری02 January, 2006 | پاکستان فوجی آپریشن کے خلاف مظاہرہ02 January, 2006 | پاکستان ’تین جہازوں نے بمباری کی‘ عینی شاہد 02 January, 2006 | پاکستان قبائل اور ایف سی میں جھڑپ 01 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||