BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 02 January, 2006, 12:08 GMT 17:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارت اپنے کام سے کام رکھے: پاکستان

بلوچستان سے متعلق بیانات سے بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں ایک بار پھر کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔
بلوچستان میں مبینہ فوجی کارروائی کے متعلق بھارت کے دفتر خارجہ کے ترجمان کے حالیہ بیانات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے پاکستان نے بھارت کو ’بُلی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکام اپنے کام سے کام رکھیں اور پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کریں۔

پیر کے روز ہفتہ وار بریفنگ میں اپنے بھارتی ہم منصب کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہا کہ بھارت کا بلوچستان کے بارے میں بیان پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے۔

دونوں ممالک کے دفتر خارجہ کے ترجمانوں کے بلوچستان کی صورتحال کے بارے میں ایک دوسرے کے بارے میں دیئے گئے بیانات سے بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں ایک بار پھر کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نے ایک بار پھر اپنے صوبے میں بھارتی مداخلت کا دعویٰ کیا ہے اور وزیر اطلاعات شیخ رشید نے بھی وہاں بیرونی خفیہ ہاتھ کے ملوث ہونے کا کہا ہے تو اس پر وہ کیا کہنا چاہیں گی؟

تسنیم اسلم نے کہا کہ ’جی ہاں بلوچستان میں بیرونی مداخلت کے اشارے ملے ہیں،۔ تاہم انہوں نے کسی ملک کا نام نہیں لیا کہ کون ملوث ہے۔

انہوں نے ایک اور سوال پر کہا کہ پاکستان نے اس بارے میں تاحال کسی متعلقہ ملک سے باضابطہ احتجاج بھی نہیں کیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ پاکستان کے پڑوسی ممالک اس میں ملوث ہیں تو وہ خاموش ہوگئیں۔

پریس بریفنگ میں تسنیم اسلم نے بھارت کے خلاف سخت بیان دینے کے بعد تسلیم کیا کہ دونوں ممالک کو ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے جس سے امن مذاکرات کا ماحول متاثر ہو۔

واضح رہے کہ بلوچستان کے دو اضلاع کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ مری اور بگٹی قبائل کی کئی روز سے مسلح جھڑپیں جاری ہیں۔
ایسی صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے بھارت کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کچھ روز قبل کہا تھا کہ بلوچستان میں صورتحال خراب ہورہی ہے اور ان کی حکومت اس پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

جس پر پاکستان کے ترجمان نے بھارتی بیان کو بلا جواز، بے بنیاد اور پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا تھا۔

پاکستان کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے بھارتی حکام نے کہا کہ جو کچھ پڑوس میں ہورہا ہے اس بارے میں بات کرنا غیر ضروری نہیں اور جو کچھ بھارت نے کیا وہ کوئی بڑی بات نہیں۔

اس کے جواب میں پیر کے روز تسنیم اسلم نے کہا کہ جو یہ کہتے ہیں کہ ایسے بیانات بڑی بات نہیں، ایسا کرنا دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے اور یہ کہ ان کی سوچ ایسےBully یا زور آور بھینسے جیسے جسے ہر طرف سرخ ہی سرخ نظر آرہا ہوتا ہے اور وہاں وہ ٹکریں مارتا ہے۔

سیاسی تجزیہ کار دونوں ممالک کے ترجمانوں کے ان بیانات کو بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں کشیدگی سے تعبیر کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اگر اعلیٰ سطح پر فوری مداخلت نہ ہوئی تو رواں ماہ کی وسط میں امن مذاکرات کے تیسرے مرحلے کی بات چیت متاثر ہوسکتی ہے۔

دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے بتایا کہ حریت رہنماوں کا وفد دلی سے پاکستان پہنچ رہا ہے۔ لیکن انہیں یہ معلوم نہیں کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کیا نئی تجاویز لارہے ہیں۔

بمبئی اور کراچی میں قونصل خانہ کھولنے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بمبئی میں جگہ حاصل کرنے کے لیے ادائیگی کردی ہے۔ لیکن ان کے مطابق آس پاس کے رہائیشیوں نے اس پر کچھ اعتراضات کیے ہیں اور اب اس مسئلے کو حل کیا جارہا ہے۔

اسی بارے میں
قبائل اور ایف سی میں جھڑپ
01 January, 2006 | پاکستان
بلوچستان: دستی بم سے 4 ہلاک
31 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد