BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 December, 2005, 14:13 GMT 19:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہوائی حملے ہوئے ضرور ہیں:عاصمہ

عاصمہ جہانگیر
عاصمہ کےمطابق وہاں بمباری ضرور ہوئی ہے
حکومت اور بلوچ قوم پرست جماعتوں کے قائدین کے متضاد دعوؤں کے حوالے سے انسانی حقوق کی تنطیم کی عہدیدار عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے فضائی حملے تو ضرور کیے ہیں لیکن ہلاکتوں کی تصدیق ابھی تک نہیں ہوئی ہے۔

سبی کے راستے کاہان کی حدود تک دورہ کرنے کے بعد کوئٹہ واپس پہنچنے پر اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ سکیورٹی فورسز نے صرف مشتبہ افراد کے کیمپوں پر حملے کیے ہیں جبکہ قبائلی رہنماوں کا کہنا ہے کہ وہاں کوئی کیمپ نہیں ہیں اور شہری آبادی میں حملے کیے گئے ہیں جس میں ستر کے قریب لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ وہ اس اصل مقام تک تو نہیں پہنچ سکیں لیکن اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ وہاں بمباری ضرور ہوئی ہے۔

عاصمہ نے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی تو پاکستان بھر میں ہو رہی ہے لیکن یہاں بلوچستان میں اس کو نوعیت مختلف ہے یہاں تشدد بھی کیا جا رہا ہے۔

گزشتہ روز عاصمہ جہانگیر نے تلی سے کاہان اور پھر کاہان سے کوہلو کے راستے رکھنی اور ڈیرہ غازی تک سڑک کی تعمیر کو تنازعہ کی وجہ بتائی تھی لیکن اس حوالے سے کوہلو کے ضلعی ناظم انجینیئر علی گل مری نے کہا ہے کون کمبخت ترقی نہیں چاہتا۔ اس سڑک کی تعمیر کے لیے انہوں نے خود مشینری بھجوائی تھی اور کام ہورہا تھا کہ اچانک فورسز نے حملے شروع کر دیے جس وجہ سے مزدور کام چھوڑ کر چلے گئے۔

انہوں نے کہا کہ صدر پرویز مشرف کے دورے کے لیے جو سپاسنامہ انہوں نے تیار کیا تھااس میں سڑکوں کی تعمیر سکولوں کا قیام اور سکولوں کے لیے بسوں کا مطالبہ بھی شامل کرنا تھا لیکن وہ یہ سپاسنامہ پیش نہیں کر سکے۔

ان کے مطابق سپاسنامہ انہوں نے اس لیے پیش نہیں کیا کیونکہ انہیں یہ خدشہ تھا کہ صدر پرویز مشرف اس دورے کے دوران کوہلو میں چھاؤنی کے قیام کا اعلان کریں گے جس پر انھوں نے ساتھیوں کے مشورے سے اس تقریب میں شرکت ہی نہیں کی۔

علی گل نے کہا کہ اس فوجی کارروائی کے لیے ضلعی انتظامیہ کو بتایا بھی نہیں گیا اور انہیں بھی ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ کوہلو میں فوجی کارروائی کا اصل مقصد یہاں فوجی چھاؤنی کا قیام ہے اور اس علاقے کے تیل اور گیس کے ذخائر نکالنا ہے۔

قوم پرست جماعتوں کے قائدین کا کہنا ہے کہ حکومت ان علاقوں میں ہی چھاؤنیاں کیوں بنا رہی ہے جہاں تیل اور گیس کے ذخائر ہیں اور یا ساحل ہیں۔

اسی بارے میں
کوہلو: اے آر ڈی احتجاج کرے گی
23 December, 2005 | پاکستان
کوہلو: ہلاکتوں کے متضاد دعوے
25 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد