BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 26 December, 2005, 23:18 GMT 04:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوجی کارروائی، وفد کوہلو روانہ

فوجی کارروائی کے بارے میں تفصیلات ذرائع ابلاغ تک نہیں پہنچ رہی ہیں
حقوق انسانی کا دفاع کرنے والی غیرسرکاری تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کا ایک وفد منگل کے روز کوہلو پہنچ رہا ہے جہاں اس کے اراکین فوجی آپریشن کے بارے میں تفصیلات معلوم کرنے کی کوشش کریں گے۔

اس وفد کے اراکین صوبہ بلوچستان کے شہر کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں جاری فوجی کارروائی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے کوئٹہ پہنچ چکے ہیں۔ ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے علاقے میں حالیہ دنوں میں پاکستانی فوج نے کارروائیاں کی ہیں تاہم ان کی تفصیلات ذرائع ابلاغ تک نہیں پہنچ رہی تھیں۔

اس وفد میں حقوق انسانی کی معروف کارکن عاصمہ جہانگیر اور ڈاکٹر مبشر حسن سمیت کئی افراد شامل ہیں۔

کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں جاری فوجی کارروائی کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔ بلوچ قوم پرست قائدین کہہ رہے ہیں کہ کوہلو میں سیکیورٹی فورسز فضائی حملے کر رہے ہیں جن میں عام شہری ہلاک ہو رہے ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس کارروائی میں مشتبہ افراد کے فراری کیمپوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

پیر کے روز وفد سے سیاسی جماعتوں کے قائدین کے علاوہ بھوک ہڑتال پر بیٹھے اصغر بنگلزئی اور حافظ سعید کے رشتہ داروں نے بھی ملاقات کی ہے اور انہیں بتایا ہے کہ دونوں افراد کو خفیہ ایجنسی کے اہلکار اٹھا کر لے گئے تھے اور اب تک انہیں پولیس کے سامنے یا عدالت میں پیش نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ کہاں ہیں۔

عاصمہ جہانگیر

عاصمہ جہانگیر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انہیں صورتحال کا اندازہ تھا لیکن یہاں کوئٹہ آکر لوگوں کی محرومیوں کا صحیح معنوں میں اندازہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’فوجی حکومت اپنے ملک میں اپنے لوگوں پر بمباری کر رہی ہے اس سے بڑھ کر اور کیا بات ہو سکتی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’ کسی بھی مسئلے کا حل بمباری نہیں بلکہ مذاکرات سے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ اور یہی بات بلو چ قائدین کو بھی سمجھنا ہوگی کہ اس طرح نو جوان نسل کو توپوں کے آگے نہیں کھڑا کیا جاتا۔‘

ان سے جب پوچھا گیا کہ بلوچستان میں راکٹ باری اور قومی تنصیبات پر حملے معمول سے ہو رہے تھے تو کیا حکومت کوئی کارروائی نہیں کرتی تو انہوں نے کہا ہے کہ ضرور کرتی لیکن اس طرح بمباری سے نہیں بلکہ جو لوگ ملوث ہیں انہیں خفیہ ایجنسییوں اور لولیس کے ذریعے تحقیقات کرکے گرفتار کیا جاتا اور عدالت کے ذریعے سزا ہوتی۔

عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ وہ کوہلو خود جارہی ہیں اور حالات دیکھیں گی تاکہ حقیقت سامنے لائی جاسکے۔ پیر کو بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ جمہوری وطن پارٹی نیشنل پارٹی اور دیگر جماعتوں کے قائدین نے انسانی حقوق کی تنظیم کے عہدیداروں سے ملاقات کی ہے۔

وزراء کی خاموشی
کوہلو میں فوجی آپریشن پر کوئی نہیں بولتا
اسی بارے میں
مشرف دورہ: پھر راکٹ داغے گئے
14 December, 2005 | پاکستان
کوہلو میں کشیدگی برقرار
18 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد