عاصمہ: کوہلو میں جھگڑا سڑک کاہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حقوق انسانی کی غیرسرکاری تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی رکن عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ ان کی نظر میں کوہلو میں حالیہ تنازعہ کی اصل وجہ ایک سڑک کی تعمیر ہے۔ عاصمہ جہانگیر نے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے ایک وفد کے ہمراہ منگل کے روز کوہلو کا دورہ کیا۔ اس وفد میں ڈاکٹر مبشر حسن سمیت کئی افراد شامل ہیں۔ سبی، تلی اور ماروند تک جانے کے بعد واپسی پر عاصمہ جہانگیر نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی نظر میں کوہلو کا تنازعہ دراصل ایک سڑک بنانے پر ہے۔ انہوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’ہم پہلے سبی سے تلی اور پھر وہاں سے آگے ماوند کے قریب گئے تھے۔‘ ’جہاں سے ہم گزرے، جہاں آرمی بیٹھی ہوئی ہے مورچے لگائے وہاں ہمیں میلوں تک کوئی شخص نظر نہیں آیا۔ کوئی مویشی نہیں، کوئی شخص نہیں۔ اور ہمیں پتہ چلا کہ وہاں پر کچھ لوگ تھے جنہیں نومیڈز کہا جاتا ہے، وہ پہلے وہاں تھے مگر اب شاید ڈر کے مارے وہاں سے چلے گئے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’فوج کا یہ کہنا ہے کہ وہاں کچھ فراری کیمپ تھے جہاں کچھ لوگ غیر قانونی کام کر رہے تھے اور انہوں نے ان کیمپوں کا قبضہ لیا ہے۔ مگر ہماری اطلاع کے مطابق وہ لوگ وہاں رہنے والے مقامی لوگ تھے۔ فوج ان کو فراری کہتی ہے۔ بہرحال جو ہم نے لوگوں سے بات کی اس سے یہی پتہ چلا کہ یہ لوگ وہیں رہنے والے تھے۔‘ ایک سوال کے جواب میں عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ ’یہ کہنا مشکل ہے کہ اس وقت فوج کتنے علاقہ پر بیٹھی ہوئی ہے کیونکہ یہ علاقہ بہت وسیع ہے۔ اس وسیع علاقے میں ہم بہت زیادہ پھر نہیں سکے۔ کیونکہ ایک تو ہمیں فوج نے خود ہی بتایا تھا کہ یہاں پر بارودی سرنگیں بھی ہیں اور دوسرا یہ کہ یہاں پر کراس فائرنگ بھی ہوتی ہے۔ ’ہم نے تقریباً دو گھنٹے ڈرائیو کیا جس کے بعد ہمیں واپس آنا پڑا۔ کیونکہ ہم آگے تو جا رہے تھے مگر کوئی بندہ ہی نظر نہیں آرہا تھا۔ ‘ علاقے میں فوج کی تعداد کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’اس علاقے میں فوج کتنی تعداد میں ہے، یہ بھی میں نہیں کہہ سکتی، مگر خاصی اچھی تعداد میں ہے۔ اسلحہ، ٹینک وغیرہ سب ہے ان کے پاس۔ مگر جو بات اب سمجھ میں آتی ہے وہ یہی ہے کہ وہاں پر جو قصہ ہے، تنازعہ ہے جو بون آف کنٹینشن ہے وہ سڑک بنانے پر ہے۔‘ ’ہم نے دیکھا کہ فوج سڑک بنا رہی تھی۔ کچھ لوگوں نے ہمیں بتایا بھی کہ یہ کام مہینے سے چل رہا تھا۔ یہ سڑک تلی سے نکلتی ہے اور آگے جا کر ڈیرہ غازی خان سے ملے گی۔ سارا تنازعہ اس سڑک کے اوپر ہے۔ ‘ ’جب ہم نے فوج کے کچھ لوگوں سے وہاں اس تنازعہ کی وجہ پوچھی تو انہوں نے ہمیں اس حیرانگی سے دیکھا کہ جیسے سڑک وہاں تھی ہی نہیں۔ حالانکہ ہم خود اس سڑک سے پھر کر آئے تھے۔ فوج نے تو سڑک کے بارے میں بالکل ہی تردید کر دی جبکہ ہم نے تعمیر کا سارا سامان وہاں دیکھا۔ ’جب ہم نے بار بار فوج سے پوچھا تو ان کا کہنا یہ تھا کہ وہ اس علاقے کو کھولنا چاہتے ہیں۔ آپ خود ہی سوچ لیں کہ جس علاقے میں میلوں تک خود ان کے مطابق کوئی انسان ہی نہیں بستا اس علاقے میں سڑک بنانے کی ضد کیوں؟‘ |ابھی ہم نے مری قبائل کے کسی رکن سے بھی بات نہیں کی ہے۔ ہم ان سے بھی رابطہ کریں گے اور ان سے پتہ کریں گے کہ وہ کیا کہتے ہیں۔ مگر کچھ تجربہ آہی گیا ہے اتنے سال کام کرنے سے، یہی نظر آتا ہے کہ تنازعہ سڑک کی تعمر پر ہی ہے۔ ‘ جب عاصمہ جہانگیر سے پوچھا گیا کہ حکومت تو کوہلو میں کسی بھی قسم کے فوجی آپریشن کی تردید کر رہی ہے، انہوں نہ کہا ’پتہ نہیں حکومت کون سی زبان استعمال کرتی ہے۔ پتہ نہیں فوجی کارروائی کس کو کہتے ہیں۔ کیونکہ آج تو ہمیں فوج نے خود بتایا ہے کہ کل راکٹ لانچر ان پر داغے گئے ہیں۔‘ | اسی بارے میں بلوچستان میں ’فتح‘ کا فوجی منصوبہ27 December, 2005 | پاکستان کوہلواور کالاباغ، بلوچستان میں ہڑتال27 December, 2005 | پاکستان بلوچستان: حزبِ اختلاف کا احتجاج28 November, 2005 | پاکستان فوجی کارروائی، وفد کوہلو روانہ26 December, 2005 | پاکستان کوہلو: ہلاکتوں کے متضاد دعوے25 December, 2005 | پاکستان فوجی کارروائی کے خلاف مظاہرے25 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||