BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 28 November, 2005, 00:28 GMT 05:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان: حزبِ اختلاف کا احتجاج

بلوچیوں کا احتجاج: فائل فوٹو
ڈیرہ بگٹی میں نیم فوجی دستوں کے خلاف احتجاج ہوتا رہتا ہے
بلوچستان اسمبلی میں اتوار کے روز حزب اختلاف کے اراکین نے پولیس کے رویے اور ڈیرہ بگٹی میں فورسز کی مبینہ بڑھوتری کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

جمہوری وطن پارٹی کی طرف سے یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ ڈیرہ بگٹی میں نیم فوجی دستے کے اہلکاروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے ۔ نواب اکبر بگٹی نے گزشتہ دنوں کہا تھا کہ بگٹی علاقہ میں فورسز کی تعداد تیرہ ہزار سے بڑھا کر ساڑھے چودہ ہزار کر دی گئی ہے۔

بلوچستان اسمبلی میں جمہوری وطن پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی سلیم کھوسہ نے نقطہ اعتراض پر یہی مسئلہ اٹھایا۔ جبکہ نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی جان محمد بلیدی نے پولیس کے رویے کے خلاف تحریک استحقاق پیش کی اور کہا کہ پولیس نے گزشتہ دنوں ہائی کورٹ کے احاطے میں اراکین اسمبلی پر بندوقیں تان لی تھیں، قوم پرستوں کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے، کئی کو بے گناہ گرفتار کیا گیا ہے اور بعض بغیر کسی وارنٹ کے ازیت خانوں میں ہیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ چار بلوچ قوم پرست جماعتیں حق طوار نیشنل پارٹی، جمہوری وطن پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی صوبے کے سیاسی اور معاشی حقوق کی خاطر جدوجہد کر رہے ہیں اور ان کا لبریشن آرمی یا فرنٹ وغیرہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اکبر بگٹی
نواب اکبر بگٹی نے گزشتہ دنوں کہا تھا کہ علاقے میں فورسز کی تعداد تیرہ ہزار سے بڑھا کر ساڑھے چودہ ہزار کر دی گئی ہے

صوبائی وزیر داخلہ شعیب نوشیروانی نے اسمبلی میں کہا ہے کہ ڈیرہ بگٹی میں نیم فوجی دستوں کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا اور جو کچھ وہاں ہو رہا ہے وہ معمول کی گشت ہے اس سے غلط تاثر نہیں لینا چاہیے۔

اس کے علاوہ بلوچستان اسمبلی کے باہر پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی نے ہرنائی کے علاقے میں کوئلے کی کان کی الاٹمنٹ کے خلاف مظاہرہ کیا۔

پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے لیڈر عثمان خان نے کہا ہے یہ کانیں حکومت نے غیر مقامی شخص کو الاٹ کی ہیں جو چودہ کلومیٹر رقبے پر محیط ہیں۔ اس الاٹمنٹ کے خلاف مقامی لوگوں نے احتجاج کیا ہے اور انتظامیہ نے کئی لوگوں کو گرفتار بھی کیا ہے۔ مظاہرین نے کہا ہے کہ الاٹمنٹ منسوخ کرکے مقامی لوگوں کو ٹھیکہ دیا جائے ۔

اسی بارے میں
بلوچستان سرحد پر دھماکے
12 September, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد