BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 14 November, 2005, 04:04 GMT 09:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈیرہ بگٹی: ایک اور فوجی کارروائی؟

بگٹی
جمہوری وطن پارٹی کا اجلاس نواب اکبر بگٹی کی صدارت میں منعقد ہوا
جمہوری وطن پارٹی کےقائدین نے کہا ہے کہ فوج اور نیم فوجی دستے ڈیرہ بگٹی میں ایک اور فوجی کارروائی کی تیاریاں کر رہی ہیں اور اس سلسلے میں جماعت نے فیصلہ کیا ہے کہ ملکی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ ساتھ سفارتکاروں کو اس بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔

نواب اکبر بگٹی کی صدارت میں منعقد ہونے والے جمہوری وطن پارٹی کے اجلاس میں کہا گیا ہے کہ فوج اور نیم فوجی دستوں کی نقل و حرکت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیرہ بگٹی اور سوئی کے علاقوں میں ایک اور فوجی کارروائی کی تیاریاں کی جار ہی ہیں۔

جماعت کے سیکرٹری اطلاعات امان اللہ کنرانی نے ڈیرہ بگٹی میں اجلاس کے بعد صحافیوں کو بتایا ہے کہ ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے جو ملکی اور بین الاقوامی اداروں کے علاوہ سفارتکاروں کو اس ساری صورتحال کے حوالے سے آگاہ کرے گی۔

اس کے علاوہ سنگل بلوچ پارٹی کے قیام کے لیے بلوچ قوم پرست رہنماوں سے ملاقات کی جائے گی۔ نواب اکبر بگٹی نے بلوچستان کے حالات کے حوالے سے سنگل بلوچ پارٹی کے قیام کی تجویز دی تھی اور کہا تھا کے اس سلسلے میں وہ اپنی جماعت کو پہلے تحلیل کریں گے۔

ڈیرہ بگٹی کے حالات کافی عرصہ سے کشیدہ چلے آرہے ہیں۔ اس سال سترہ مارچ کو فرنٹیئر کور اور مقامی قبائل کے مابین مسلح جھڑپ میں کئی افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

نواب اکبر بگٹی کے مطابق اس واقعے میں ستر کے لگ بھگ افراد ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے تھے جبکہ سرکاری سطح پر کم تعداد بتائی گئی تھی۔ اس کے بعد سوئی میں فوج بھیج دی گئی تھی۔

اس سے پہلے سوئی میں ڈاکٹر شازیہ خالد سے مبینہ جنسی زیادتی کے واقعہ کے بعد مسلح قبائل نے گیس تنصیبات اور فوجی اہلکاروں پر حملے کیے تھے جس میں دو درجن سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے ان میں سکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے۔

موجودہ حالات اور جماعت کے خدشات کے حوالے سے فرنٹیئر کور کے حکام سے رابطے کی کوشش کی لیکن رابطہ قائم نہ ہو سکا تاہم گزشتہ دنوں فرنٹیئر کور کی جانب سے ایک پریس ریلیز جاری کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا لوگ نواب بگٹی کی وجہ سے علاقہ چھوڑ کر جا رہے ہیں اور بچوں کو ایف سی سکول میں پڑھنے نہیں دیا جا رہا۔

مقامی صحافی نیاز بگٹی نے کہا ہے کہ علاقے میں سیکڑوں سرکاری اور غیر سرکاری سکول قائم ہیں اور وہاں بچوں کو باقاعدہ تعلیم دی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں
شجاعت ڈیرہ بگٹی چلے گئے
27 March, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد