BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 28 April, 2005, 09:46 GMT 14:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈیرہ بگتی فائرنگ، حالات کشیدہ

ڈیرہ بگتی کے مسلح قبائلی
حالیہ فائرنگ سے ایک مرتبہ پھر حالات کشیدہ ہو گئے ہیں
ڈیرہ بگتی کے نواحی علاقے بیکڑ میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے تاہم کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

فائرنگ کا یہ سلسلہ رات گئے شروع ہوا اور اس بارے میں متضاد اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

جمہوری وطن پارٹی کے قائد نواب اکبر بگتی نے کہا ہے کہ فرنٹیئر کور کے چار سو کے لگ بھگ اہلکاروں نے مقامی بگتی قبائل کے لوگوں پر ڈیرہ بگتی سے پینسٹھ کلومیٹر دور شمال میں بیکڑ کے علاقے میں فائرنگ کی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ایف سی کے اہلکاروں نے بغیر کسی وجہ کے ان کے لوگوں پر فائرنگ کی ہے اور اس دوران بھاری اسلحہ استعمال کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کچھ روز قبل سیکیورٹی اہلکاروں کی کئی گاڑیاں اس علاقے کی طرف گئی تھیں۔

ادھر وفاقی حکومت اور نواب اکبر بگتی کے مابین مذاکرات کا سلسلہ جمود کا شکار ہے تاحال اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ نواب اکبر بگتی نے کہا ہے کہ سب کچھ ہوا میں ہے۔ حالیہ فائرنگ سے ایک مرتبہ پھر حالات کشیدہ ہو گئے ہیں۔

فرنٹیئر کور کے بھنبھور رائفل کے کمانڈنٹ کرنل فرقان نے بی بی سی کو بتایا کہ دراصل نواب بگتی کے حمایتی قبائلیوں نے وہاں مقیم ایک اور بگتی سردار غلام قادر مسوری کے لوگوں پر فائرنگ کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس میں فرنٹیئر کور غیر جانبدار ہے اور ان کے اہلکاروں کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی ڈیڑھ سو خاندان جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں بے گھر ہوگئے ہیں اور کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نواب بگتی کے لوگ وہاں مورچہ قائم کر رہے تھے اور اس کا مقصد غلام قادر اور ان کے قریبی لوگوں کو سزا دینا تھا۔

News image
وفاقی حکومت اور نواب اکبر بگتی کے مابین مذاکرات کا سلسلہ جمود کا شکار ہے

غلام قادر مسوری سترہ مارچ کو ڈیرہ بگتی میں ایف سی اور مقامی قبائل کے مابین فائرنگ کے دوران بگتی قبائل کی حراست سے فرار ہو کر ایف سی ہیڈکوارٹر کوئٹہ پہنچ گئے تھے جہاں انہوں نے اخباری کانفرنس میں بتایا تھا کہ وہ نواب بگتی کی حراست میں تھے اور انہیں فائرنگ کے دوران فرار ہونے کا کہا گیا تھا۔

قادر مسوری نے کوئی چھ ماہ قبل اپنے آپ کو بگتی قبائل کے حوالے کر دیا تھا جب بقول ان کے آرمی کی ایک میڈیکل ٹیم ان کے علاقے آرہی تھی جس پر وہاں اختلافات پیدا ہو گئے تھے۔

اس بارے میں بگتی قبائل کے لوگوں نے کہا تھا کہ میڈیکل ٹیم نہیں بلکہ سیکیورٹی اہلکار اس علاقے میں کسی اور مقصد کے لیے آرہے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد