حکومت ڈبل گیم کھیل رہی ہے: بگٹی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمہوری وطن پارٹی کے قائد نواب اکبر بگٹی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت سے بات چیت کے ساتھ ساتھ ادھر ڈیرہ بگٹی میں بڑی تعداد میں فورسز کو تعینات کیا جا رہا ہے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق ڈیرہ بگٹی کے علاقے میں تعینات فورسز کی تعداد سولہ ہزار سے زیادہ ہے۔ اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے قائدین سے ملاقات کے بعد بی بی سی سے باتیں کرتے ہوئے نواب اکبر بگٹی نے کہا ہے کہ ایک طرف چودھری شجاعت حسین اور مشاہد حسین لوگوں سے بات چیت جاری ہے تو دوسری جانب ان فیصلوں کی خلاف ورزیاں بھی ہو رہی ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ ایف سی کے اہلکار کئی مقامات پر طے شدہ معاہدوں کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ہوئے ہیں۔ نواب اکبر بگٹی نے کہا ہے کہ ڈیرہ بگٹی میں سیکیورٹی فورسز ایف سی رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی تعداد سولہ ہزار سے زیادہ ہے اور یہ تعداد مزید بڑھائی جا رہی ہے۔ اتحاد برائے بحالیِ جمہوریت کے قائدین سے مذاکرات کے بارے میں انھوں نے کہا ہے کہ وہ خود کمزور ہیں، ان کے لیڈر باہر ملکوں میں ہیں، وہ کیا کر سکتے ہیں ہم سب حزب اختلاف کا حصہ ہیں۔ جب ان سے کہا گیا کہ احتجاجی تحریکیں تو شروع کی جا سکتی ہیں تو انھوں نے کہا ہے کہ مجلس عمل نے بھی احجاجی تحریکوں کے لیے ملین مارچ شروع کیا تھا اور صرف ہزاروں لوگ آئے جس سے تحریک بیٹھ گئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||