BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 13 April, 2005, 15:21 GMT 20:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈیرہ بگٹی: مورچوں کا انخلاء شروع

ڈیرہ بگٹی
فریقین نے آج صبح بیک وقت مورچے خالی کرنا شروع کر دیے ہیں تاکہ علاقے میں کشیدگی کو کم کیا جا سکے
ڈیرہ بگٹی میں فرنٹیئر کور اور بگٹی قبائل نے مورچے خالی کرنا شروع کر دیے ہیں اور سوئی ڈیرہ بگٹی روڈ ٹریفک کے لیے کھولا جا رہا ہے۔

جمہوری وطن پارٹی کے جنرل سیکرٹری آغا شاہد بگٹی نے کہا ہے کہ دونوں فریقین نے آج صبح بیک وقت مورچے خالی کرنا شروع کر دیے ہیں تاکہ علاقے میں کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ ابھی تک ایف سی کے حکام سے رابطہ نہیں ہو سکا کہ آیا انھوں نے بھی مورچے خالی کرنا شروع کیے ہیں یا نہیں۔

نواب اکبر بگٹی نے کہا ہے کہ ڈیرہ بگٹی سوئی روڈ پر ان کے چھ مورچے ہیں جبکہ ایف سی کے اٹھارہ مورچے ہیں جو خالی کرنے ہیں۔ انھیں جب کہا گیا کہ ایف سی کے حکام کا کہنا ہے کہ انتیس مورچے بگٹیوں کے ہیں تو انھوں نے کہا ہے کہ انھیں باسٹھ مورچوں کی فہرست دی گئی تھی ان میں ان لوگوں کو بھی شامل کیا گیا ہے جو اپنے گھروں میں بیٹھے ہیں۔

ان سے جب پوچھا کہ کیا حالات بہتری کی طرف جا رہے ہیں تو انھوں نے کہا ہے کہ یہ اس وقت ہو گا جب ہمیں معلوم ہو یا کوئی خود مختار کمیشن قائم کریں کہ سترہ مارچ کو جو قتل عام کیا گیا تھا اس کی کیا وجوہات تھیں کیوں ان پر یہ ظلم کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ سترہ مارچ کو بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے تھے جن میں ہندو بچے اور خواتین شامل ہیں۔

مورچے خالی کرنے کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے شیر علی مزاری کل شام سوئی پہنچے تھے جہاں انھوں نے ایف سی کے حکام سے بات چیت کی ہے ۔ اس کے بعد آج صبح شیر علی مزاری سڑک کے راستے ڈیرہ بگٹی گئے جہاں انھوں نے نواب اکبر بگٹی سے بات چیت کی جس کے بعد مورچے خالی کرنے کے لیے اقدامات شروع کیے گئے۔

شیر علی مزاری نواب اکبر بگٹی کے بھانجے اور شیرباز مزاری کے بیٹے ہیں۔ ان کا نام ابتدائی طور پر مشاہد حسین نے تین رکنی کمیٹی میں نواب اکبر بگٹی کے نمائندے کے حوالےسے لیا تھا لیکن نواب اکبر بگٹی نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ شیر علی تین رکنی کمیٹی میں ان کا نمائندہ نہیں ہے۔

نواب اکبر بگٹی نے تاحال اس تین رکنی کمیٹی کے لیے اپنا نمائندہ مقرر نہیں کیا ہے اور اس کی کوئی وجہ بھی نہیں بتائی گئی لیکن وفاقی حکومت سے جب سے مذاکرات شروع ہوئے ہیں شیر علی مزاری کافی سرگرم ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد