مشاہد حسین، ڈیرہ بگٹی کا دورہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکمران مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری سینیٹر مشاہد حسین نے منگل کو سوئی اور ڈیرہ بگٹی کا دورہ کیا اور ڈیرہ بگٹی کے حوالے سے کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا۔ جمہوری وطن پارٹی کے قائد نواب اکبر بگٹی نے کہا ہے کہ ڈیرہ بگٹی کے حوالے سے بعض فیصلوں پر عملدرآمد ہوا ہی نہیں ہے اور بعض پر تجاوزات کی جا رہی ہیں۔ مشاہد حسین سے ملاقات کے بعد بی بی سی سے باتیں کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مشاہد حسین نے علاقے کا جائزہ خود لیا ہے ۔ انھوں نے کہا ہے کہ مشاہد حسین کے علم میں یہ بات لائی گئی ہے کہ ڈیرہ بگٹی کے حوالے سے کیے گئے فیصلوں پر ایف سی کے جوانوں نے تجاوزات شروع کر دی ہیں بعض مقامات کو جو خالی کر دیے گئے ہیں وہاں پھر سے کام شروع ہے اور بعض اور مقامات پر کام ہو رہا ہے جس پر انھیں خدشات لاحق ہیں۔ مشاہد حسین نے مقامی صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے نواب اکبر بگٹی کو چوہدری شجاعت حسین کا پیغام پہنچایا ہے اور نواب اکبر بگٹی کی بیمار پرسی کی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ جہاں تجاوزات ہوئی ہیں اس بارے میں پائے جانے والے خدشات کو دور کر دیا جائے گا۔ سینیٹر مشاہد حسین اس تین رکنی کمیٹی کے سربراہ ہیں جو ڈیرہ بگٹی کے حوالے سے کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد اور اس پر مسلسل نطر رکھنے کے لیے قائم کی گئی تھی۔ یہ کمیٹی سترہ مارچ کے واقعے کے بعد چوہدری شجاعت حسین اور نواب اکبر بگٹی کے مابین مذاکرات کے بعد بنائی گئی تھی۔ سترہ مارچ کو فرنٹیئر کور اور مسلح بگٹی قبائل کے مابین فائرنگ کے تبادلے میں کئی افراد ہلاک ہو گئے تھے جس کے بارے میں نواب اکبر بگٹی نے دعوی کیا تھا کے ان کے ساتھ سے زیادہ بے گناہ شہری ہلاک ہو ئے ہیں ان میں ہندو مرد عورتیں اور بچے شامل ہیں۔ اس واقعے سے کچھ روز پہلے نا معلوم افراد نے سوئی میں ٹیلی فون ایکسچینج کو آگ لگا دی تھی۔ یاد رہے کہ اس ایکسچینج کی حفاظت کے لیے پولیس کے علاوہ ایف سی تعینات رہتی ہے اور اس کی اب تک مرمت نہیں کی گئی ہے۔ مشاہد حسین نے مقامی صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایکسچینج اب جلد ہی کام شروع کر دے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||