BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 26 May, 2004, 18:23 GMT 23:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشاہد لیگ کے سیکریٹری مقرر
شجاعت حسین
شجاعت حسین بدستور متحدہ پاکستان مسلم لیگ کے صدر رہیں گے
پاکستان میں حکمران جماعت ، مسلم لیگ کے نئے مرکزی عہدیدارو کا اعلان کردیا گیا ہے جس کے مطابق سینیٹر سید مشاہد حسین کو سیکریٹری جنرل بنا دیا گیا ہے۔

بدھ کی شام صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کرنے کے بعد پاکستان مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین نے اخباری کانفرنس میں عہدیداروں کا اعلان کیا۔

تاہم صوبائی عہدیداروں کا اعلان ابھی تک نہیں کیا جا سکا جس کی وجہ مدغم ہونے والے دھڑوں میں عہدوں پر پائے جانے والے اختلافات بتائے جاتے ہیں۔

چودھری شجاعت کے مطابق چھ سینیئر نائب صدور ہونگے جن میں اعجازالحق، میاں منظور احمد وٹو، ارباب غلام الرحیم، اویس احمد خان لغاری، سلطان محمود خان اور امتیاز احمد شیخ شامل ہیں۔ اس طرح مدغم ہونے والے تمام دھڑوں کو نمائندگی دی گئی ہے۔

مسلم لیگ کے صدر نے بتایا کہ جنرل سیکریٹری کی معاونت کے لئے دو ایڈیشنل سیکریٹری نامزد کیے گئے ہیں جن میں اقبال ڈار اور نثار احمد میمن شامل ہیں۔

جبکہ طارق عظیم کو سیکریٹری اطلاعات مقرر کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نامزد کردہ عہدیداروں کی منظوری آئندہ جنرل کونسل کے اجلاس سے لی جائے گی۔

جب چودھری شجاعت سے سوال کیا گیا کہ اخباری کانفرنس سے قبل صدر مشرف سے کیا وہ منظوری لینے گئے تھے؟ اس پر مسکراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر پارلیمینٹ کا حصہ ہیں ان سے ہر معاملے پر مشاورت ضروری ہوتی ہے۔

واضع رہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کی ذاتی کوششوں اور دلچسپی لینے کے بعد نہ صرف مسلم لیگ کے پانچ دھڑوں بلکہ سندھ ڈیموکریٹک الائنس اور نیشنل الائنس نے بھی مدغم ہو کر پاکستان مسلم لیگ کے نام سے نئی جماعت بنانے کا اعلان کیا تھا۔

یاد رہے کہ سید مشاہد حسین جو کہ نامور اخبار نویس ہیں وہ اس سے قبل مسلم لیگ نواز میں تھے اور نواز شریف کے انتہائی قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔

جنرل مشرف نے جب نواز شریف حکومت ختم کر کے اقتدار پر قبضہ کیا تھا اس وقت مشاہد حسین کو گرفتار کیا گیا تھا اور انہوں نے فوجی حکومت کے خلاف جدوجہد کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔

لیکن اس وقت وہ نہ صرف چودھری شجاعت حسین کے قریب ہیں بلکہ ان کا شمار صدر مشرف کے با اعتماد ساتھیوں میں بھی ہورہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد