ڈیرہ بگٹی میں جھڑپیں جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان کے شہر ڈیرہ بگٹی میں جاری جھڑپوں میں ایک خاتون سمیت تین شہریوں کی ہلاکت اور آٹھ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ یہ اطلاع بھی موصول ہوئی ہے کہ نیم فوجی دستے کے کم سے کم تین اہلکار ہلاک ہوئے ہیں لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ نیم فوجی دستے کے اہلکاروں اور بگٹی قبائل کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ آج چوتھے روز بھی جاری رہا اور دونوں جانب سے متضاد دعوے کیے جا رہے ہیں۔ جمہوری وطن پارٹی کے جنرل سیکرٹری آغا شاہد بگٹی نے کہا ہے کہ ایک خاتون سمیت تین شہری ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے ہیں جن میں تین خواتین اور پانچ بچے شامل ہیں اور یہ نقصان آبادی پر گولہ باری سے ہوا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ان کی اطلاع کے مطابق ایف سی کے کم سے کم تین اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ اس کے برعکس ڈیرہ بگٹی کے ضلعی رابطہ افسر عبدالصمد لاسی نے کہا ہے کہ انھیں کسی قسم کی ہلاکت یا زخمی کی اطلاع نہیں ہے ہاں یہ ضرور ہے کہ سوئی ڈیرہ بگٹی روڈ پر جھڑپیں جاری ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ ادھر پنجاب کی سرحد کے قریب بیکڑ کے علاقے میں فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے بگٹی قبائل کے ساتھ جھڑپ کے بعد مورنج نامی کیمپ پر قبضہ کر لیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ اس وقت اس کیمپ کی تلاشی لی جا رہی ہے جہاں توقع ہے کہ بھاری اسلحہ موجود ہے۔اس کے علاوہ انھوں نے کہا ہے کہ لوٹی گیس فیلڈ کی طرف جانے والے راستے پر بھی جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ شاہد بگٹی نے کہا ہے کہ بیکڑ کے اس علاقے میں کیمپ وغیرہ کوئی نہیں ہے انتظامیہ جہاں بگٹیوں کی آبادی کو دیکھتی ہے تو اسے کیمپ بنا دیتی ہے اور پگڑی اور داڑھی والے ہر شخص کو دہشت گرد بنا دیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ اس علاقے میں فائرنگ کا تبادلہ ضرور ہوا ہے لیکن دوپہر کے بعد اس علاقے میں خاموشی ہو گئی ہے۔ سوئی سے آمدہ اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے آج مختلف مکانات پر چھاپے لگا ئے ہیں اور کچھ افراد کو حراست میں لیا ہے۔ سوئی گیس فیلڈ کے سامنے روزگار کا مطالبہ کرنے والے ہڑتالیوں نے کہا ہے کہ ان پر فورسز نے تشدد کیا ہے۔ ایک مقامی صحافی نے کہا ہے کہ اس کے گھر چھاپہ مارا گیا ہے اور ان کے چچا اور چچا زاد بھائیوں کو حراست میں لے لیا گیاہے۔ ڈی سی او صمد لاسی نے اس بارے میں کہا ہے کہ کہ مقامی انتظامیہ کی مدد سے ا ن مقامات پر چھاپے مارے گئے ہیں جو کچھ مشتبہ تھے اس کے علاوہ کوئی تشدد وغیرہ نہیں گیا۔ ادھر کوہلو میں حالات کشیدہ بتائے گئے ہیں جہاں وقفے وقفے سے گولی باری کی آوازیں سنائی دی جا رہی ہیں۔ کوہلو کے ناظم انجینیئر علی گل مری نے کہا ہے کہ کہان اور دیگر قریبی علاقوں میں ہیضے کے علاوہ نمونیا کی بیماریاں پھیلی ہوئی ہیں جہاں ادویات اور ایمبولینس کی اشد ضرورت ہے لیکن حکومت اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہی۔ یاد رہے اس علاقے کے لوگوں نے کہا ہے کہ فضائی بمباری سے ڈسپنسریاں وغیرہ تباہ ہو چکی ہیں۔ اس کے علاوہ ادھر بولان کے علاقے میں چار دھماکے ہوئے ہیں۔ دو بجلی کے کھمبے کے ساتھ، ایک ریل کی پٹڑی اور ایک فرنٹیئر کور کی چوکی قریب ہوا ہے لیکن کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||