BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 January, 2006, 12:22 GMT 17:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچوں کی تحریک انٹرنیٹ پر

پِکرو میں پاک فوج کا کیمپ، فوٹو بشکریہ: بلوچ ووائس ڈاٹ کام
صوبہ بلوچستان میں جہاں بلوچ عسکریت پسندوں نے ہتھیار اٹھا کر اپنے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کی ہے وہیں انہوں نے انٹرنیٹ جیسے جدید ذرائع سے فائدہ اٹھانا بھی شروع کر دیا ہے۔

’بلوچ ووائس ڈاٹ کام‘ نامی ایک ویب سائٹ نے سیکورٹی فورسز کی جانب سے حالیہ کارروائیوں کے بارے میں دیگر معلومات کے علاوہ ہلاک ہونے والے بچوں کی مسخ لاشوں کی تصاویر بھی جاری کی ہیں۔

بلوچستان میں عوام کو دیگر شکایات کے علاوہ ایک گلہ یہ بھی رہا ہے کہ ان کی آواز کو قومی ذرائع ابلاغ میں وہ مقام یا اہمیت نہیں دی گئی جو ان کا حق تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ کبھی سرکاری اور کبھی کسی اور دباؤ کی وجہ سے ذرائع ابلاغ نے ان کی آواز اور مشکلات کو صوبے سے باہر پہنچنے نہیں دیا۔

بلوچ قوم پرست اس ’امتیازی سلوک‘ کی شکایت اکثر صحافیوں سے بات چیت میں کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ مقامی بلوچ پریس میں تو ان کی خبریں شائع ہوجاتی ہیں لیکن قومی یا بین الاقوامی سطح پر ان کو کوریج کم ہی ملتی ہے۔

اسی کمی کو پورا کرنے کے لیے چند نامعلوم افراد نے انٹرنیٹ پر ’بلوچ ووائس ڈاٹ کام‘ یعنی بلوچ آواز نامی ایک ویب سائٹ شروع کر رکھی ہے۔ اس ویب سائٹ پر اکثر مواد صوبے میں جاری تشدد کی کارروائیوں سے متعلق ہے۔

پہلے صفحے پر بی بی سی کی اردو سروس سمیت دیگر دو بین الاقوامی ریڈیو سٹیشنوں کے لنکس موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ان ریڈیو سٹیشنوں کی بلوچستان سے متعلق رپورٹس کے لنکس بھی یہاں دیکھے جا سکتے ہیں۔

ویب سائٹ کے بائیں جانب لوگوں سے ایک سوال پوچھا گیا ہے کہ بلوچ اپنے قومی حقوق کیسے حاصل کر سکتے ہیں۔ نتائج پر نظر ڈالیں تو ساٹھ فیصد سے زائد افراد نے مسلح جدوجہد، بیس فیصد مذاکرات جبکہ صرف چودہ فیصد پارلیمان کے ذریعے حقوق کے حصول کے حق میں رائے دی ہے۔

تاہم واضع رہے کہ اس قسم کے انٹرنیٹ پر جائزوں کی درستگی غیرواضح رہی ہے۔

پہلے صفحہ پر بلوچستان کی صورتحال سے متعلق مضامین، اداریے، انٹرویو اور تازہ رپورٹیں بھی شامل ہیں۔ بلوچ قوم پرست رہنما اکبر بگٹی، خیر بخش مری اور سردار عطا اللہ مینگل سے متعلق بھی ایک صفحہ مختص ہے جس میں ان رہنماؤں کی تصاویر اور بیانات کے علاوہ ان کے تعریف میں ایک بلوچی گیت بھی موجود ہے۔

ویب سائٹ نے مری اور بگٹی علاقوں میں حالیہ فضائی کارروائیوں کے دوران مکانات کو نقصانات اور اس میں استعمال ہونے والے گولہ بارود کے علاوہ ہلاک ہونے والے بچوں کی مسخ شدہ لاشوں کی تصاویر بھی جاری کی ہیں۔ تاہم ان تصاویر کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

ویب سائٹ پر فوج کے خلاف تلخ زبان استعمال کی گئی ہے اور اسے بار بار ’پنجابی فوج‘ کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔

اس ویب سائٹ پر بلوچی قوم پرست گیت بھی سنے جاسکتے ہیں جبکہ سن دو ہزار تین اور چار کے دوران سرکاری اہداف پر کیے جانے والے حملوں اور نقصانات کی تفصیل بھی موجود ہے۔ تاہم ان میں اکثر حملے راکٹ کے ہیں جن کی ذمہ داری بلوچ لیبریشن آرمی نامی ایک تنظیم وقتا فوقتا قبول کرتی رہی ہے۔

یہ ویب سائٹ کون لوگ کہاں سے چلا رہے ہیں واضح نہیں لیکن اس کا مقصد ویب سائٹ دیکھنے کے بعد خاصا واضح ہوجاتا ہے۔ ویب سائٹ چلانے والوں سے رابطے کا ایک ہی ذریعے دیا گیا ہے اور وہ ہے ای میل ایڈریس۔

ویب سائٹ پر دیے گئے اعدادوشمار کے مطابق یکم مارچ سن دو ہزار ایک سے اسے دیکھنے کے لیے سوا دو لاکھ سے زائد لوگ آچکے ہیں جوکہ اگرچہ کوئی اتنی بڑی تعداد نہیں لیکن بلوچستان میں جاری کشیدگی کے بارے میں ’عسکریت پسندوں‘ کا موقف جاننے کے لیے ایک اچھی جگہ ضرور ہے۔

اسی بارے میں
قبائل اور ایف سی میں جھڑپ
01 January, 2006 | پاکستان
ڈیرہ بگٹی میں جھڑپیں جاری
02 January, 2006 | پاکستان
فوجی آپریشن کے خلاف مظاہرہ
02 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد