بارودی سرنگ کا دھماکہ، 4 زخمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان میں لوٹی گیس فیلڈ کے قریب نیم فوجی دستے کی گاڑی ایک بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی جس سے چار اہلکار زخمی ہو گئے ہیں جبکہ جمہوری وطن پارٹی کے قائدین نے دعوی کیا ہے کہ بدھ کو بیکڑ کے قریب ہیلی کاپٹروں کے ذریعے حملوں اور ڈیرہ بگٹی شہر میں گولہ باری سے چودہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ڈیرہ بگٹی کے ضلعی رابطہ افسر عبدالصمد لاسی نے بتایا ہے کہ لوٹی گیس پلانٹ کے قریب اس جگہ پر بارودی سرنگیں بچھا دی گئی ہیں جہاں گزشتہ روز پانی کی پائپ لائن کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایف سی کی ایک گاڑی اس علاقے میں موجود بارودی سرنگ سے ٹکرائی ہے جس سے تین اہلکار اور ایک افسر زخمی ہوئے ہیں۔ ادھر گزشتہ رات اوچ گیس پلانٹ سے اوچ پاور پلانٹ کو جانے والی پائپ لائن کو بارودی سرنگ سے اڑائے جانے کے بعد پاور پلانٹ کو گیس کی ترسیل منقطع ہوگئی ہے اور بجلی کی سپلائی بھی متاثر ہوئی ہے۔عبدالصمد لاسی نے بتایا ہے کہ پائپ لائن کی مرمت کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ جمہوری وطن پارٹی کے قائدین شاہد بگٹی اور براہمدغ بگٹی نے کہا ہے کہ بدھ کو بیکڑ کے قریب ہیلی کاپٹروں سے حملے کیے گئے ہیں اور ڈیرہ بگٹی شہر کے اندر گولہ باری کی گئی ہے جس سے تین عورتیں اور گیارہ بچے زخمی ہوئے ہیں۔ شاہد بگٹی سے جب پوچھا گیا کہ سرکاری سطح پر بگٹی قبائل پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ حملوں کی پہل ان کی طرف سے ہوتی ہے جس پر ایف سی کے اہلکار جوابی کارروائی کرتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ’ سرکاری اہلکار جھوٹ بولتے ہیں ایف سی کے اہلکار پہلے حملہ کرتے ہیں جس پر اب بگٹی قبائل کے لوگ مزاحمت کر رہے ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ’ یہ سب اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ وفاقی حکومت اس علاقے میں موجود تیل اورگیس کے ذخائر پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔ اس کے علاوہ مری اور بگٹی قبائل اپنے حقوق کی باتیں کرتے ہیں اور حکمران اسے پسند نہیں کرتے‘۔ کوہلو سے ایک شہری ریحان بگٹی نے بتایا ہے کہ کاہان کے قریبی دیہی علاقوں پر بدھ کو حملے کیے گئے ہیں اور مقامی آبادی کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ ادھر حزب اختلاف کی درخواست پر کل بلوچستان اسمبلی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے ۔ قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ سے جب اجلاس کے ایجنڈے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں جاری کارروائی کے حوالے سے قرار داد پیش کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوجی کارروائی بند کی جائے اور مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں‘۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||