ڈیرہ بگٹی: ’جھڑپیں جاری ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے جہاں ایک طرف خواتین اور بچوں کی ہلاکتوں جبکہ دوسری طرف گرفتاریوں کے دعوے کیے گئے ہیں۔ حزب اختلاف کی درخواست پر طلب کیا گیا بلوچستان اسمبلی کا اجلاس کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے غیر معینہ مدت کے لیے برخواست کر دیا گیا جبکہ سیاسی جماعتوں نے بلوچستان اسمبلی کے سامنے زبردست احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔ جمہوری وطن پارٹی کے جنرل سیکرٹری آغا شاہد بگٹی نے کہا ہے کہ بدھ کی شام سے جمعرات تک ڈیرہ بگٹی شہر اور قریبی علاقوں میں شدید گولہ باری کی جا رہی ہے جس میں دو خواتین اور چار بچوں سمیت دس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ لوپ کے علاقے میں نیم فوجی دستے کی گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرائی جس سے ایف سی کے تین اہلکاروں کے ہلاک ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ ڈیرہ بگٹی کے ضلعی رابطہ افسر عبدالصمد لاسی نے کہا کہ ایف سی کے اہلکار اس حادثے میں زخمی ہوئے ہیں، ان کے ہلاک ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا ہے کہ پیر کوہ گیس پلانٹ کے قریب نو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جس پر شک ہے کہ یہ لوگ بارودی سرنگیں بچھا رہے تھے کیونکہ موقع سے تین بارودی سرنگیں برآمد ہوئی ہیں۔ اس گرفتاری سے پہلے فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے جس سے ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا ہے۔ رکن صوبائی اسمبلی بالاچ مری نے ٹیلیفون پر بتایا کہ کوہلو میں کل شدید حملے کیے گئے ہیں۔ ادھر کوئٹہ میں جمعرات کوحزب اختلاف کی جماعتوں کی درخواست پر طلب کیے گئے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی ارکان نے شرکت ہی نہیں کی جبکہ اپوزیشن کا ایک رکن کم ہونے کی وجہ سے کورم پورا نہیں ہوا جس وجہ سے اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے۔ قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے جمعیت علماء اسلام کے اراکین کو اس کا ذمہ دار ٹھرایا ہے۔ متحدہ مجلس عمل سے تعلق رکھنے والے سینئر صوبائی وزیر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ’اپوزیشن خود اپنے ارکان پورے نہیں کرسکی اور سارا انحصار اگر ہمارے اراکین پر تھا تو بات وہی ہوئی کہ مدعی سست گواہ چست‘۔ بلوچستان اسمبلی کے باہر سیاسی جماعتوں نے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔ قائدین نے بلوچستان اور کالا باغ کے حوالے سے حکومتی پالیسیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ سیاسی جماعتوں میں بلوچ قوم پرست جماعتوں کے علاوہ پختونخواہ ملی عوامی پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان پیپلز پارٹی اور ہزارہ ڈیموکریٹک کے قائدین اور کارکنوں نے شرکت احتجاج میں شرکت کی ہے۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||