ڈیرہ بگٹی محاصرے میں: بگٹی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ اور بلوچ قبائل کے سردار نواب اکبر خان بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں سنیچر کی رات اور دن میں بھی بمباری کی گئی ہے اور گزشتہ دس روزمیں صرف ڈیرہ بگتی میں ستائیس افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں نو عورتیں اور چھ بچے بھی شامل ہیں۔ وہ سنیچر کی سہ پہر لاہور میں ایک ٹیلی فونک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے جس کا اہتمام اے آر ڈی کے رہنما عبدالقدیر خاموش کی رہائش گاہ پر کیا گیا تھا۔ اکبر بگٹی نے کہا کہ ڈیرہ بگتی میں ایک سو بتیس افراد زخمی ہیں جن میں باون عورتیں اور اڑسٹھ بچے ہیں اس کے علاوہ مال مویشی کا بھاری نقصان ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ڈیرہ بگٹی سترہ دسمبر سے محاصرے میں ہے، بلوچوں کی جھونپڑیوں کو آگ لگائی جارہی ہے اور فوج کی دور مار توپیں کل سے بمباری کر رہی ہیں اورجو بھی کوئی متحرک نظر آتا ہے اس پر بمباری کی جاتی ہے‘۔ انہوں نے صدر مشرف کا نام لیے بغیر کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ فوج کے ایک بڑے جرنیل پر کوہلو میں گولے پھینکے گئے جس سے ان کی توہین ہوئی ہے اور اسی کا انتقام بلوچ عوام سے لیا جارہا ہے۔ اکبر بگٹی نے کہا کہ ان پر تو اسلام آباد میں بھی حملے ہوئے تو پھرجوابی طور پر پنڈی کو بم سے کیوں نہیں اڑا دیا گیا۔ اکبر بگٹی نے کراچی میں کور کمانڈر پر حملے اور اٹک میں وزیر اعظم شوکت عزیز پر حملوں کی مثال دیکر کہا کہ’ان شہروں پر تو انتقامی طور پر کوئی حملہ نہیں ہوا صرف بلوچستان کےعوام کو نشانہ بنایا جا رہا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ جن افراد نے حملہ کیا ہے ان کو پھانسی دیدی جائے لیکن عوام کو نہ مارا جائے۔ بلوچستان میں ہونے والی گڑبڑ میں بیرونی ہاتھ کے ملوث ہونے کے حکومتی دعوے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’جب بھی وہ یہ حرکت کرتے ہیں پھر کہتے ہیں کہ ہندوستان کا ، افغانستان کا یا ایران کا ہاتھ ہے کبھی کہتے ہیں کہ امریکہ کا ہاتھ ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’وہ کہتے ہیں جس کا بھی ہاتھ ہے اس ہاتھ کو مروڑ کر توڑ دیں۔ مذاکرات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کے مذاکرات توپ کے منہ سے ہو رہے ہیں۔ اکبر بگٹی کا کہنا تھا کہ کل انسانی حقوق کمیشن کے ارکان بلوچستان آ کر صورتحال کا جائزہ لینے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے مقامی صحافیوں کو دعوت دی کہ وہ بھی آئیں اور حالات کو دیکھیں۔ انہوں نے کہا کہ ’بلوچستان لبریشن آرمی، بلوچستان لبریشن فرنٹ اور بلوچ پیپلز فرنٹ نے بھٹو کے دور میں جنم لیا تھا یہ اب پھرمتحرک ہیں اور بلوچ عوام کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں‘۔ تاہم اکبر بگٹی کا کہنا تھا کہ ان کا ان تنظیموں سے کوئی براہ راست تعلق نہیں ہے اور ان کے بقول ان تنظیموں کا اپنا کمانڈ اینڈ کنٹرول کا نظام ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ بلوچستان پر فوج کے مبینہ حملے کے لیے سارے پنجاب کو ملامت نہیں کرتے بلکہ اس کا ذمہ دار تو پنجاب کا حکمران طبقہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایک عام ریڑھی فروش اور کسان کو تو علم بھی نہیں ہوگا کہ اس کے نام پر کیا کیا ہورہا ہے‘۔ اکبر بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں ہونے والے ظلم پر اگر بھارت نے ان کے حق میں بیان دیا ہے تو وہ اس کو ویلکم کہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’یہ بڑی اچھی بات ہے اس بارے میں بھارت تو کیا اگر ایران، انگریز یا ابلیس بھی بیان دے تو اسے خوش آمدید کہیں گے۔ اتحاد برائے بحالی جمہوریت نے بلوچستان میں فوج کے مبینہ آپریشن کے خلاف لاہور میں احتجاجی جلوس نکالنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ یہ جلوس اتوار کی سہہ پہر پریس کلب شملہ پہاڑی سے پنجاب اسمبلی تک جائے گا اور اس میں شرکت کے لیے اے آر ڈی کے قائدین اور بلوچ رہنما لاہور پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔ اکبر بگتی نے کہا کہ ’وہ خود بھی اے آر ڈی کا حصہ ہیں اور ان کے خیال میں اس ریلی کا کو ئی فائدہ نہیں ہوگا‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ اے آر ڈی کے جذبے کی قدر کرتے ہیں لیکن ان کے پاس صرف جمہوریت کا ہتھیار ہے جو پاکستان میں نہیں چلتا۔ ان کے بقول ’یہاں ڈکٹیٹر شپ ہے اور ایسے میں جمہوریت کی بات کرنے والے کو نان سنس کہا جاتا ہے‘۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||