بلوچستان ایک بار پھر خبروں میں ہے۔ مقامی رہنما علاقے میں ہوائی حملے کئے جانے کے دعوے کررہے ہیں جبکہ حکومت کسی قسم کے آپریشن کے وجود سے ہی انکاری ہے۔ اب تک میڈیا میں آنے والی اطلاعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ بہت سے دور افتادہ علاقوں سے نہ صرف آبادی نے نقل مکانی کی ہے بلکہ وہاں جاری ’ریاستی کارروائی‘ سے جانی اور مالی نقصانات بھی ہوئے ہیں۔ لیکن حکومت کا کہناہے کہ علاقے میں کوئی آپریشن نہیں کیا جارہا۔ کیا یہ ہر شہری کا حق نہیں کہ اسے بلوچستان کی صورتحال کے بارے میں غیر جانبدارانہ معلومات تک رسائی ہو؟ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں تو آپ کے خیال میں اس سلسلے میں کیا کیا جانا چاہئیے؟ کیا بلوچستان کے بارے میں حقائق معلوم کرنے اور ان کی تصدیق کرنے کے لئے باقاعدہ کوششوں کی ضرورت ہے؟
یہ فورم اب بند ہوچکا ہے۔ قارئین کی آرا درج ذیل ہیں۔زہیر شاہ، پشاور، پاکستان: یہ تو حکومت کا فرض ہے کہ لوگوں تک صحیح اطلاعات پہنچائیں۔ قاسم علی، رحیم یار خان، پاکستان: یہ جو جنگ ہو رہی ہے یہ صرف حکومت اور بگلای کی ہے اور اس میں غریب عوام کا نقصام ہو رہا ہے۔ اس سے نہ ہی بگٹی پر اثر پڑے گا اور نہ ہی حکومت پر۔ نقصان ہوگا صرف غریب عوام ہے کیونکہ بلوچستان اب سیاست کا میدان بن چکا ہے۔ ابراہیم ملک، لاہور، پاکستان: ایک بی بی سی کے سامع نے کہا کہ بلوچستان پر ظلم کا ذمہ دار پنجاب نہیں۔ میں پنجابی ہونے کے باوجود کہتا ہوں کہ پاکستان کے کسی بھی حصے میں ایسی شورش کا ذمہ دار پنجاب ہے۔ جنرل مشرف بھی پنجاب کے ہی بل بوتے پر پاکستان پر حکومت کر رہے ہیں۔ زیادہ تر میڈیا بھی پنجاب کے پاس ہے اور اسی وجہ سے بلوچستان کی خبریں کبھی منظر عام پر نہیں آتیں۔ بی بی سی کا بھلا ہو، ہم کچھ تو سن لیتے ہیں۔ پاکستانی میڈیا سچ بولنی کی اخلاقی جرات نہیں رکھتا۔ فواد خان یوسف زئی، آسٹریلیا: بلوچستان کے وڈیرے پنجاب کے وڈیروں کے بھائی ہیں لیکن اتفاق سے حکومت کے مخالف ہیں۔ بہر حال ان ہی زمین داروں نے پورے بلوچستان کو شروع سے ہی یرغمال بنایا ہوا ہے۔ اب اس بات کی ضرورت ہے کہ بلوچستان کے لوگ بگٹی اور مری قبیلوں کی گرفت سے باہر نکلیں اور نام نہاد سرداروں کو سزا دی جائے اور یہ پورے ملک میں ہونا چاہیے۔ احمد خان، پشاور، پاکستان: بگٹی آرمی بغاوت کر رہی ہے اور اس کو سختی سے روکنا چاہیے۔ نواب صاحبان وہاں کے لوگوں کو بےوقوف بنا اکر اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ پنجاب کے لوگ بہت محنتی ہیں اور بہت کام کرتے ہیں۔ تمام کارخانوں اور انڈسٹری میں پنجاب کے لوگ ہی کام کرتے ہیں۔ محنت کرنے والوں کو ترقی ضرور کرنی چاہیے اور دوسروں کو چاہیے کہ وہ بھی محنت کرنا سیکھیں۔ ریاض فاروقی، دبئی: بلوچستان کی عوام کی پستہ حالی کی اصل وجہ تو وہاں کے سردار ہیں اور یہ جو جنگ چل رہی ہے بلوچستان میں یہ اس لیے نہیں ہے کہ پاکستان کی حکومت بلوچستان کا نظام صحیح کرنا چاہتی ہے بلکہ وہ صرف دو تین سرداروں کے خلاف جنگ کر رہی ہے۔ اس سے نہ عوام کو فائدہ ہے نہ نقصان کیونکہ ایک سردار جائے گاتو دوسرا آجائےگا اس کی جگہ۔ وہ حکومت سے مل کر پھر عوام پر ظلم کرےگا، تو یہ سلسلہ چلتا رہےگا۔ طارق عزیز، جھنگ، پاکستان: جمہوریت کا پہلا اصول یہ ہے کہ کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے عوام کو آگاہ کیا جاتا ہے مگر یہاں تو یہ سننے میں آتا ہے کہ پہلہ شجاعت اور مشاہد مسئلے کا حل طے کرتے ہیں اور پھر اچانک بلوچستان میں ’شرپسندوں‘ کے خلاف آپریشن شروع ہو جاتا ہے۔ یہ سب کیا ہے؟ اور کہاں ہے جمہوریت؟ ہیرہ خان، پاکستان: پاکستانی فوج پاکستان کے سارے وسائل پر قبضہ کر لینا چاہتی ہے اس لیے اس نے یہ آپریشن شروع کیا ہے۔ جب تک ساری عوام متحد نہیں ہوتی اس وقت تک ایسی کارروائیاں عوام کے خلاف ہوتی رہیں گی۔ عطاالرحمان، پاکستان: ہم سب پاکستانی ہیں۔ یہ ہمارا ملک ہے۔ ہم سب مل کر اپنے حقوق کے لیے لڑیں گے چاہیں بلوچ ہوں، صوبہ سرحد کے ہوں، پنجاب کے ہوں یا سندھ کے۔۔۔ اظفر خان، ٹورانٹو، کینیڈا: ہر پاکستانی کو یہ حق ہونا چاہیے کہ بلوچستان میں ہمارے بہن بھائیوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ یہ سب ہمارے پاکستانی اور مسلمان بھائی ہیں۔ ان کی زندگی کا معیار بلند کرنا ہم سب کا فرض اور ان کا حق ہے۔ مگر قوم پرست لیڈر جو پاکستان توڑنے کی دھمکی دیتے ہیں، ان جیسوں سے ملک کو صاف کرنا ہوگا۔ راجہ عمران، سپین: بلوچستان میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے بہت غلط ہو رہا ہے۔ اس میں ان معصوم جانوں کا کیا قصور ہے؟ ایک اللہ ہی ہے جو پاکستان کو صحیح راستے پر چلنے کی توفیق عطا کر سکتا ہے، جنہوں نے آپس میں ہی جنگ شروع کر دی ہے۔ سالار بلوچ، کوئٹہ: عوام تک ڈیرہ بگٹی میں ہونے والی کارروائیوں کی اطلاعات پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ بین الاقوامی برادری اور صحافی کچھ کریں۔ اگر فلسطینیوں اور اسرائیل کے مسئلے پر رپورٹنگ کی جا سکتی ہے تو پھر بلوچستان پر کیوں نہیں؟ میرے خیال میں صحافیوں کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اس مسئلے کو اجاگر کرنا چاہیے۔ محمد اجمل بنگش، اسلام آباد، پاکستان: صرف بلوچستان ہی نہیں بلکہ تمام اشوز پر آپ دل کھول کر بول سکتے ہیں۔ شرط بس یہ ہے کہ آپ پرویز مشرف کی حمایت میں بولیں۔ بےشک آپ جھوٹ بولیں، اور اگر آپ سچ بولنا چاہیں تو اپنی زبان بند رکھیں۔۔۔ ہارون بلوچ، کوئٹہ، پاکستان: بلوچستان کا معاملہ بندوق کی نوک پر نہیں بلکہ بلوچی کو ان کے حق دینے سے حل ہو گا۔ بلوچی بہادر لوگ ہیں ان کو دبانے سے مسئلہ ہاتھ سے نکل جائے گا۔ بنگلہ دیشی لوگوں کو بھی بلوچوں جیسے الزمات لگا کر قتل گیا لیکن اس کے نتیجے میں ایک علیحدہ بنگلہ دیش وجود میں آیا۔ دل مراد خان، کراچی، پاکستان: بلوچیوں کی ساتھ پاکستانی آرمی نے خون کی ہولی 1971 سے کھیلنا شروع کی۔ اس دوران ہزاروں بلوچ شہید اور بےشمار زخمی ہوئے ہیں۔ یہ سلسلہ وقتاً فوقتاً جاری رہا ہے۔ قوم کے نام پر نواب نوروز خان کو مچھ جیل میں پھانسی پر چڑھایا گیا۔ بلوچستان کے مسئلے کا واحد حل آزاد بلوچستان ہے۔ حکمران کبھی بلوچ سے ظلم زیادتی کے بارے میں معافی مانگتے ہیں پھر دوبارہ ان کو بمباری کر کے شہید کرتے ہیں۔ بات اب ان مزاکرات سے آگے نکل چکی ہے۔ اللہ داد بلوچ، پاکستان: بلوچستان کے ساتھ پاکستانی حکمرانوں نے ہمیشہ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا ہے۔ ہر بار بلوچوں کا قتلِ عام کیا گیا ہے۔ لیکن اصل حقائق میڈیا اور عالمی برادری کے سامنے نہیں لائے گئے جوکہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔ برکت علی، کوئٹہ، پاکستان: بلوچستان کا مسئلہ آج کا نہیں بلکہ 1948 بلوچستان کے جبری الحاق سے لے کر آج تک جاری ہے۔ بلوچ قومی تحریک کبھی سست تو کبھی تیز ہمیشہ جاری رہی ہے۔ پاکستان کے تمام حکمرانوں نے بلوچ قوم اور ان کی قومی تحریک کو کچلنے کے لیے وقتاً بوقتاً طاقت کا استعمال کیا ہے۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ 1973 میں بلوچ قومی تحریک میں بلوچ مزاحمت کاروں کو کچلنے کی بھرپور کوشش کی گئی لیکن مزاحمت کاروں کو زیر نہیں کر سکے۔ رحیم بخش بلوچ، ہانگ کانگ، چین: میں بی بی سی کا بے حد شکر گزار ہوں کہ بی بی سی کے تمام نامہ نگاروں نے اپنی اپنی ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے بلوچستان کے معاملے کو انٹیرنیشنل سطح پر اوجاگر کیا ہے۔ کاش پاکستانی میڈیا بھی بی بی سی جیسا آزاد ہوتا۔ بلوچوں کے مسخ شدہ تصاویر جو بی بی سی نے شائع کی ہیں، پاکستانی یہ تصاویر شائع کرنے کے مجال ہی نہیں ہیں کیونکہ پاکستانی میڈیا مکمل طور پر ایجنسیوں کے پریشر میں ہے۔ حق نواز بلوچ، کوہلو، پاکستان: نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کوہلو میں ملیٹری آپریشن ہو رہا ہے۔ شوکت سلطان، شیخ رشید اور شیرپاؤ انکاری ہیں کہ کوہلو میں آپریشن نہیں ہو رہا ہے۔ میڈیا اور انٹرنیشنل ادارے اتنے بےوقوف نہیں ہیں کہ وہ پاکستانی حکومت کے جھوٹ پر یقین کریں گے۔ اوپر دیے گئے بچوں کے تصاویر خود اس بات کی شواہد ہیں کہ وہ جیٹ اور ہیلی کاپٹر کی بمباری کا نشانہ بنے ہیں۔ ان سے معصوم بچوں کی لاشوں کو دیکھ کر رونٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ شفیع الرحمان، کراچی، پاکستان: میرا تعلق اگرچہ پاکستان سے نہیں ہے لیکن بلوچستان سے بلند ہونے والے شعلے میری نظروں کے سامنے ہیں۔ جلنے والی آگ کے شعلے دن بدن زیادہ بلند ہوتے جا رہے ہیں اور بلوچستان سے اٹھنے والے دھوئیں گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے پورے ملک کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ممتاز علی، یو اے ای: ملک کی خبر گیری سب کا حق ہے۔ پاکستان میں یہ ناممکن ہے کیونکہ سارے کا سارہ پریس بقا ہوا ہے۔ جس کوحقوق نہ دیے جائیں وہاں ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں۔ سارا پاکستان بلوچستان اور سندھ کی معدنیات پر چل رہا ہے اور ٹیکس بھی یہی ادا کر رہیں ہیں۔ جبکہ پنجاب صرف7 2 فیصد ادا کر رہاہے۔ اس کے باوجود پنجاب کو سب کچھ دیا جائے اور باقیوں کو کچھ بھی نہیں تو ایسا ہی ہونا ہے۔ بی بی سی ہمیں خبر سے آگاہ کرتی رہے۔ شاہدہ اکرام، یو اے ای: جن باتوں کا براہ راست تعلق عوام سے ہو ان حقائق کا سب کے لیے جاننا ضروری ہوتا ہے۔ ضروری نہیں کہ فوج ہمیشہ حق پر ہو۔ عدنان ارشد، سرگودھا: سب سے پہلے تو سب اپنی غلط فہمی دور کریں کے سب پنجاب کروا رہا ہے۔ خدا کا واسطہ ہے کہ پنجابی، سندھی، بلوچی اور پٹھان سے باہر نکلو۔ لغاری، مزاری، بگٹی، جٹ، گجر بننے سے کیا ملے گا سب کو؟ سب پاکستانی ہیں۔ مشرف کب سے پنجابی ہو گیا؟ شکیل آفتاب راجہ، نامعلوم: جو لوگ بلوچستان بلوچستان کی رٹ لگا رہے ہیں انہوں نے خود ظلم اور تشدد کی انتہا کر رکھی ہے۔ جاگیردارانہ نظام رائج ہے وہاں اور انسانوں سے بھیڑ بکریوں جیسا سلوک ہو رہا ہے۔ یہ سب کچھ جو آرمی کر رہی ہے یہ وہاں کی عوام کی بھلائی کے لیے ہے۔ لیاقت علی خان، میانوالی ہم نے جیٹ فائیٹرز کو بلوچستان کی طرف پرواز کرتے ہوئے دیکھا اور میں بتا سکتا ہوں کہ وہ تین نہیں چار تھے اور میانوالی ائیر بیس سے اڑے تھے۔ ریاض بگٹی، ڈیرہ بگٹی پولیس نے شہر میں کئی افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔زیادہ تر لوگ شہر چھوڑ کر جانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ایف سی نے تمام سڑکیں بند کردی ہیں اور لوگوں کو جانے سے روک رہے ہیں۔ شہر کے قریب سے ہم نے دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں۔ لوگوں میں بہت خوف ہے اور یہاں کوئی بڑا سانحہ کسی بھی وقت ہوسکتا ہے۔ عبداللہ لغاری، ڈی جی خان پنجاب کے لوگوں کے علاوہ باقی سب کو معلوم ہے کہ بلوچستان میں کیا ہورہا ہے۔ ایک بار پھر پاکستان آرمی کے لئے لوگوں سے زیادہ زمین ہے۔ اب ایسا لگتا ہے کہ صرف پنجاب ہی پاکستان رہے گا۔ علی حسن ، جنوبی افریقہ اگر حکومتی ذرائع کے مطابق بلوچستان میں کچھ نہیں ہورہا تو شیرپاؤ اور شوکت سلطان میڈیاسے گھبرائے ہوئے کیوں ہیں اور ہمیشہ اپنا فون بند کیوں رکھتے ہیں؟ کیا وہ اس طرح سے حقائق چھپا سکتے ہیں؟ میرے خیال میں ہیومن رائٹس والوں اور اقوام متحدہ کی ٹھموں کو بلوچستان میں دورہ کرنا چاہئیے حقائق خود بخود سامنے آ جائیں گے۔ ساحیمرید، کینیڈا میرے خیال میں انڈیا کی طرح انٹرنیشنل کمیونٹی کو بلوچستان پر سٹینڈ لینا چاہئیے تاکہ وہ پاکستان پر دباؤ ڈال سکیں کہ معصوم بلوچیوں کی ہلاکت کو روکا جاسکے۔ بلوچستان میں وہی کیا جارہا ہے جو 1971 میں بنگلہ دیش میں کیا گیا۔ دلدار اسلم راجہ،دبئی ہر پاکستانی کو حق ہے کہ وہ جانے کہ بلوچستان میں کیا ہورہا ہے۔ کہیں بے گناہ لوگ تو نہیں مارے جارہے۔ چاند بٹ، جرمنی یہ ٹھیک ہے کہ ہر شخص کو غیر جانبدار حقیقیت جاننے کا حق ہے لیکن جو لوگ ایک آزاد ملک میں ذاتی حکومت بناتے ہیں اور پاکستانی عوام کے خون سے بنی قومی املاک کو نقصان پہنچاتے ہیں کیا ان سے حکومت محبت سے پیش آئے؟ پاکستانی کی حاکمیت کا پاکستان کی حکومت کو حق ہے۔جو لوگ ریلوے لائنوں کو اڑاتے ہیں اور پل تباہ کرتے ہیں اور بسوں میں سے پاکستانی پنجابیوں کو نکال کر گولیاں مارتے ہیں وہ ڈاکو ہیں اور ان کا قلع قمع کرنا ضروری ہے۔ غلام قادر اسکانی، سویڈن آپ کیسے بات کررہے ہیں جہاں جمہوریت ہی نہ ہو وہاں آزاد میڈیا کہاں ہوگا؟ جو بلوچستان میں ہورہا ہے اس میں مغربی ممالک اور امریکہ کی مرضی شامل ہے کیونکہ اگر امریکہ چاہے تو پاکستان آرمی ایسی غلطی نہیں کرسکتی۔ پاکستانی میڈیا بہکا ہوا ہے اور اب سب امیدیں بی بی سی سے ہیں لیکن آپ کی معلومات بھی مکمل طور پر غیر جانبدار نہیں ہیں۔ پلیز بی بی سی کے وقار کو برقرار رکھیں۔ عمران چیمہ، یو کے پاکستان کی یہ بدقسمتی رہی ہے کہ عام عوام اور حکمران مختلف دنیا کے باسی ہیں۔ کبھی بھی کسی معاملے میں عوام کو اعتماد میں نہیں لیاجاتا۔ ملک دو ٹکڑے ہوگیا اور عوام کو سب اچھا ہے کی رپورٹ ملتی رہی۔ بلوچستان ایک سیاسی مسلہ ہے اور اس کا سیاسی حل ہی نکالا جانا چاہئیے۔جنگ سے کبھی کوئی مسلہ حل نہیں ہوا۔ شاد خان ، ہانگ کانگ یہ گیس کی جنگ ہے پاکستانی آرمی اور بگٹی آرمی کے درمیان۔ کسی کو بھی پاکستانی عوام کی پرواہ نہیںآ ایسے میں کون ہمیں صحیح تصویر دکھائے گا۔ عادل، نیو یارک جس معاشرے میں شہریوں سے جینے کا حق بھی چھین لیا گیا ہو وہاں معلومات تک رسائی کا حق دل جلانے والی بات ہے۔ جب تک پاکستان کے اور خاص طور پر پنجاب کے عوام بیدار نہیں ہوتے اور پچاس سالوں سے غاصب حکمرانوں سے پیچھا نہیں چھڑاتے حالات ایسے ہی رہیں گے۔ علی خان، سیئول، جنوبی کوریا دونوں فریقین کو اپنا موقف میڈیا میں واضح کرنے کا موقع دیا جانا چاہئیے لیکن ایسا نہیں ہوگا کیونکہ زلزلے کے حوالے سے حکمرانوں کو جو شرمندگی اٹھانا پڑی ہے اس کے بعد وہ کسی قسم کی رعایت نہیں دیں گے۔ میری بی بی سی سے اپیل ہے کہ وہ اپنی کوریج جاری رکھ کر عوام کو باخبر رکھیں۔ شکریہ۔ حارث بلوچ، ویسٹ ورجینیا، امریکہ صرف بی بی سی ہی ہے جو بلوچستان کے بارے میں کچھ بتا رہا ہے۔ پاکستان کے باقی اخبارات اور ویب سائیٹیں کچھ نہیں بتا رہیں۔ |