BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 December, 2005, 15:11 GMT 20:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچ تحریکیں تشدد کی راہ پرگامزن کیوں؟

نواب اکبر بگٹی کو ایسٹیبلشمنٹ کا بہت ہی قریبی سمجھا جاتا رہا ہے
بلوچستان کے علاقے کوہلو میں پاکستان فوج کی طرف سے بلوچ مزاحمت کاروں کیخلاف تازہ آپریشن کے شروع ہونے کے ساتھ ہی اس صوبہ میں فوجی اپریشن کی تعداد پانچ تک پہنچ گئی ہے۔

بلوچستان پاکستان کا وہ واحد صوبہ ہے جہاں پر قوم پرست سیاسی تحریکوں میں اپنے سیاسی مقاصد کے حصول میں تشدد کا رجحان دیگر صوبوں کے قوم پرستوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

پاکستان کے قیام کے بعد قلات ریاست کے پاکستان کے ساتھ الحاق ہی نے بلوچ سرداروں، نوابوں اور سیاسی دانشوروں میں پاکستان کے خلاف مزاحمتی تحریک کے بیج بو دیئے تھے جو آج تک مختلف شکلوں میں ہمارے سامنے آرہے ہیں۔

بلوچ قوم پرست حلقوں کا کہنا ہے کہ خان آف قلات کا پاکستان سے الحاق کا فیصلہ پاکستان کے دباؤ کا نتیجہ تھا جس کے خلاف احتجاج کے طور خان آف قلات کے بھائی شہزادہ عبدالکریم اپنے مسلح ساتھیوں کے ساتھ پہاڑوں پر چلے گئے تھے اور یہ بلوچ حقوق کے لیے پہلے مسلح جدوجہد تھی۔

بلوچستان کی سٹریٹیجک اہمیت اور بین الاقوامی قوتوں کی مفادات سے قطع نظر بلوچستان کے مسئلہ کو سمجھنے کے لیے اس صوبے میں قوم پرست سیاستدانوں اور دانشوروں کے نظریاتی جھکاؤ اور پاکستان کیساتھ مسائل کو الجھانے یا سلجھانے کی حکمت عملی کو سمجھنا ہوگا۔

اتفاق سے بلوچستان میں قبائلی، عوامی اور سیاسی طور پر قیادت ایسے نوابوں اور سرداروں کے ہاتھ میں رہی ہے جو سبھی کیمونسٹ اور بائیں بازو کی ترقی پسندانہ نظریات کے زیر اثر رہے ہیں۔ ان نظریات نے پاکستان کے وفاق کے اندر پہلے سے موجود بلوچ قوم پرستوں کو حقوق کی محرومی کے حوالے سے سونے پر سہاگے کا کام کیا ہے اور انہی نظریات کی اساس پر سرد جنگ کے دوران افغانستان انقلاب کے پس منظر میں آج بلوچستان میں ہر دھماکے کی ذمہ داری لینی والی تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ اور بلوچستان لبریشن آرمی نے جنم لیا جو ایک الگ بحث کا متقاضی ہے۔

بلوچ قوم پرست یہ سمجھتے ہیں کہ گوادراور سیندک پروجیکٹ سے لیکر سوئی گیس اور دیگر معدنی وسائل کو وفاق کے نام پر پنجاب لوٹ رہاہے اور جواب میں انھیں کچھ نہیں دیا جارہاہے۔ یہی وہ سیاسی ایشوز ہیں جو بلوچ سیاستدانوں کو سیاسی میدان فراہم کررہے ہیں اور اس میدان کےنامور کھلاڑی نواب اکبر خان بگٹی، سردار عطاءاللہ مینگل، نواب خیر بخش مری اور ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ ہیں۔

نواب اکبر خان بگٹی کے علاوہ باقی تینوں بلوچ رہنما ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں کالعدم نیشنل عوامی پارٹی میں ایک ساتھ رہے ہیں ۔ان چاروں میں سے خاموش طبع نواب خیر بخش مری جنہیں افغانستان میں خاموش طبعی کیوجہ سے کیمونسٹ رہنما اور سیاسی کارکن ’گونگا بابا‘ کہہ کر پکارتے تھے، سیاسی طور پر با لغ نظر اور سخت گیر موقف رکھنے والے سیاستدان کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

ضیاء الحق کے دورحکومت میں نیپ کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ حیدر آباد سازش کیس سے رہائی پانے کے بعد بشمول غوث بخش بزنجو ان سیاستدانوں نے بلوچستان کے حقوق کے حصول کیلئے اپنی اپنی حکمت عملی اپنائی۔ بلوچ سیاسی پارٹیاں بنتی ٹوٹتی رہیں، اتحاد اور ادغام ہوتےاور بکھرتےرہے لیکن خیر بخش مری سب سے الگ تھلگ بلوچوں کے مسئلے کا واحد حل بندوق کی نوک پر مکمل حق خودرادیت سمجھتے رہے اور یہی نظریہ ساتھ لیکر مری قبیلے کے ہزاروں افراد کیساتھ اسی کی دہائی میں افغانستان چلے گئے۔

مرحوم غوث بخش بزنجو اور ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ معتدل سیاست کے قائل جبکہ عطاءاللہ مینگل بیک وقت مذاکرت اور تشدد دونوں پر یقین رکھتے ہیں جبکہ نواب اکبر خان بگٹی کو ایسٹیبلشمنٹ کا بہت ہی قریبی سمجھا جاتا ہے لیکن وہ برے حالات میں بلوچ جبکہ سوئی گیس کے مالی سودابازی کے وقت بگٹی بن جاتےہیں۔

گزشتہ کچھ دہائیوں سے نواب خیر بخش مری اور ان دیگر سیاسی رہنماؤں کے درمیان بلوچستان کے حقوق کے حصول کے حوالے سے وقتاًفوقتاً فکری بحث مباحثے ہوتے آرہے ہیں ۔نواب خیر بخش مری بار بار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پاکستان کا فطری طور پر ایک ریاست کے طور پر طویل عرصے تک رہنا ممکن نہیں اور جب تک نہ ٹوٹے بلوچوں کو عسکری جدوجہد کے ذریعے حقوق حاصل کرنے چائیں۔

ان کے بقول نواب خیر بخش مری سمجھتے ہیں کہ بلوچستان میں حکومت کو تیل اور گیس کی دریافت کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے کیونکہ کل کلاں اگر پاکستان نہیں رہتا تو پہلے سے استعمال شدہ تیل اور گیس کے ذخائر بلوچوں کی آئندہ کی نسلوں کیلۓ کم پڑجائیں گے۔

خیر بخش مری کے اس سیاسی نقطہ نظر کو دیگر بلوچ سیاستدان رد کرتے ہوئے مرکزی حکومت کے ساتھ بلوچستان کے مسئلے کو مذاکرات اور جمہوری طریقے سے حل کرنے پر اصرار کرتے رہے مگر گزشتہ چند سالوں سے بلوچستان میں فوجی چھاؤنیوں کے قیام اور نواب بگٹی کے خلاف فوجی آپریشن کے دعوؤں کے بعد ایسا محسوس ہورہاہے کہ دیگر بلوچ رہنما خیر بخش مری کی سیاسی نقطہ نظر اور حکمت عملی کے قائل ہوگئے ہیں اسی لیے آج تک نواب بگٹی اور عطاءاللۂ مینگل بھی مبینہ بلوچ عسکری تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی کی کارروائی کی نہ صرف مذمت نہیں کرتے بلکہ اسکے وجود سے بھی انکاری نہیں ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ بلوچ قوم پرست قیادت آہستہ آہستہ عسکریت پسندی کی راہ پر گامزن ہورہی ہے اگر ایسا ہوتا ہے تو بلوچستان میں بلوچ قوم پرستوں اور حکومت کے درمیان ایک ایسا سیاسی خلاء پیدا ہوجائیگا جسکو صرف تشدد ہی پر کرے گا۔ ایسی صورت میں مذاکرات کی میز پر دونوں کو لانا اگر ناممکن نہیں تو ایک سخت مشکل عمل ہوگا۔

بلوچستان’بلوچ لبریشن آرمی‘
بلوچ لبریشن فرنٹ وجود رکھتی ہے: وزیر اعلیٰ
بلوچ قوم پرستبلوچ کہانی
بلوچ قوم پرستی، تاریخی پس منظر میں: پہلی قسط
گوادر میں ایرانی اشیاءایران زیادہ قریب ہے
گوادر میں ایرانی اشیاء پاکستانی چیزوں سے ارزاں
بلوچستانسازشیں اور حقائق
امریکی مفادات اور بلوچستان کی صورت حال؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد