زمین پاکستانی ، سامان ایرانی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوادر میں اگر آپ انڈہ خریدنے بازار جائیں تو آپ کو تخم مرغ ملے گا۔ چپل خریدیں تو اس پر کسی فارسی ویب سائٹ کا پتہ درج ہوگا۔ گوادر کے بازاروں میں پاکستانی سامان کم اور ایرانی زیادہ ملتا ہے۔ دکاندار محمد یعقوب کا کہنا ہے کہ یہاں اشیائے خوردونوش کے علاوہ بھی بہت کچھ ایران سے آتا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں چپلوں، کمبلوں، واٹر کولروں اور بچوں کے کھلونوں کا ذکر کیا۔ ایک خریدار راحت علی کے مطابق یہاں زیادہ تر ایرانی سامان اس لیے پسند کیا جاتا ہے کہ وہ پاکستانی مصنوعات کے مقابلے میں کافی سستا ملتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کپڑے دھونے کے لیے پاکستانی’ سرف‘ یہاں ساٹھ سے پینسٹھ روپے میں ملتا ہے جب کہ ایرانی صرف پندرہ بیس روپے میں۔ پاکستانی اور ایرانی سامان کی قیمتوں میں فرق کی وجہ گوادر کے ناظم عبدالحمید یہ بتاتے ہیں کہ گوادر سے ایران کا راستہ کم ہے اور کراچی کا زیادہ۔ اس لیے چیزیں کراچی سے یہاں تک پہنچانے پر زیادہ خرچ آتا ہے۔ ایران کی سرحد کا گوادر سے راستہ دو تین گھنٹے کا ہے۔ کراچی کا راستہ کوسٹل ہائی وے بننے سے پہلے تین چار دن میں طے ہوتا تھا۔ اب اسے طے کرنے میں سات آٹھ گھنٹے لگتے ہیں۔ پھل سبزیوں اور عام زندگی کی مصنوعات کے علاوہ گوادر میں پٹرول اور بجلی بھی ایران سے درآمد کی جاتی ہے۔ کیونکہ وہ حکومت کو سستی پڑتی ہے۔ جب سے کوسٹل ہائی وے بنا ہے ایران سے سامان منگانے کے رجحان میں تبدیلی آئی ہے۔ سبزی فروش قادر کے مطابق وہ پہلے صرف ایران سے مال منگواتے تھے، اب کراچی سے بھی منگواتے ہیں۔ لیکن ان کے خریدار راحت علی پاکستانی مال سے کچھ خوش نظر نہیں آتے۔ انہوں نے شکایت کی کہ ایران سے آنے والی سبزی زیادہ تازی ہوتی تھی۔ اب جو سبزی آرہی ہے وہ گلی سڑی ہوتی ہے کیونکہ اسے گوادر پہنچنے میں بہت دیر لگ جاتی ہے۔ پھلوں اور سبزیاں جلد خراب ہوجانے والی اشیاء ہیں لیکن ناظم عبدالحمید کے مطابق ان کے علاوہ دوسری چیزوں میں اب کوسٹل ہائی وے کی وجہ سے پاکستانی کمپنیاں ایرانی سامان کے مقابلے پر نظر آتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گوادر میں پہلے سیمنٹ اور سریا ایران سے منگایا جاتا تھا لیکن اب اسی قیمت پر پاکستانی کمپنیوں کا سیمنٹ اور سریا دستیاب ہے۔ چنانچہ ہو سکتا ہے کچھ دن بعد گوادر کے رہنے والوں کو تخم مرغ کی جگہ انڈہ ملنا شروع ہوجائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||