BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 07 January, 2006, 18:41 GMT 23:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مچھ: راکٹ حملے میں ہلاکتیں

بلوچستان
بلوچستان میں تشدد کی کارروائیوں میں اضافہ ہو گیا ہے
پاکستان کے مغربی صوبے بلوچستان کے علاقے مچھ میں فرنٹیئر کانسٹیبلری اور مسلح افراد کے تصادم میں دو بچوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے ساٹھ کلومیٹر دور واقع ضلع بولان کے شہر مچھ میں سنیچر کو نامعلوم افراد نے فرنٹیئر کانسٹیبلری پر پے در پے راکٹ برسائے جس کے جواب میں ایف سی نے بھی فائرنگ کی۔

ایف سی کے ترجمان کرنل حسن جمیل کے مطابق راکٹ حملوں میں دو بچے ہلاک ہوئے ہیں جبکہ پانچ زخمی لوگوں کو بھی مچھ اسپتال لایا گیا ہے۔ ان کے مطابق مچھ میں ایسے راکٹ حملے قطعی غیرمتوقع تھے اور وہاں سے مزید اطلاعات حاصل کی جارہی ہیں۔

تاہم علاقے کے انتظامی افسر خدائے نور کے مطابق راکٹ حملوں میں صرف ایک آدمی ہلاک ہوا ہے۔ بعد ازاں ایک شخص نے بی بی سی سے ٹیلی فون پر گفتگو میں خود کوبلوچ لبریشن آرمی کے آزاد بلوچ کے طور پر شناخت کراتے ہوئے مچھ میں راکٹ حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

ان کا یہ دعوٰی بھی تھا کہ جانی نقصان ایف سی کی جوابی فائرنگ سے ہوا ہے کیونکہ راکٹوں کا ہدف صرف ایف سی اور سرکاری عمارتیں تھیں۔

دوسری جانب گوادر سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق وہاں چند سو مقامی مچھیروں نے ڈیپ سی پورٹ کے آس پاس ماہی گیری سے روکے جانے اور میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے اہلکاروں کی طرف سے ماہی گیری کے جال وغیرہ پھاڑ دینے کے خلاف شدید احتجاج کیا۔

بعد میں کچھ نامعلوم افراد نے بندرگاہ پر لنگرانداز ایجنسی کی پانچ پٹرولنگ کشتیوں کو بھی جلادیا۔ تاہم گوادر کے ضلعی نائب ناظم عبدالغفار ہوت کے مطابق پانچوں کشتیاں ناکارہ تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ اب گوادر میں حالات قابو میں ہیں۔

ڈیرہ بگٹی شہر سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق وہاں آج سہ پہر مسلح قبائلیوں اور فرنٹیئر کانسٹیبلری اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوگیا جو شام تک جاری تھا۔

نواب اکبر بگٹی کے ترجمان شاہد بگٹی کے مطابق فائرنگ سے دو خواتین اور ایک بچہ زخمی ہوگیا۔ شاہد بگٹی کے مطابق نواب اکبر بگٹی حفاظت کے نقطۂ نظر سے اپنے گھر میں نہیں ہیں تاہم وہ علاقے میں ہی موجود ہیں۔

دوسری جانب ڈیرہ بگٹی کے ڈی سی او عبدالصمد لاسی نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے علاقے میں فائرنگ کی تصدیق کی لیکن ان کا کہنا تھا کہ ایف سی کے اہلکاروں نے محض جوابی فائرنگ کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ڈیرہ بگٹی کے ہی علاقے میں مسلح قبائلیوں نے ایف سی کے ایک قافلے پر بھی گھات لگا کر حملہ کیا جس میں کچھ اہلکار زخمی ہوئے۔ تاہم وہ مزید تفصیلات دینے سے قاصر رہے۔

سنیچر کی شام جب ڈیرہ بگٹی میں کچھ عام افراد سے بی بی سی نے رابطہ کیا تو ان افراد نے ریڈیو پر علاقے میں ہونے والی فائرنگ اور گولہ باری کی آوازیں بھی سنوائیں۔ ریڈیو پر فرنٹیئر کانسٹیبلری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی مختلف مقامات سے بظاہر باہمی گفتگو بھی سنائی دے رہی تھی جس میں کچھ افسران فائرنگ اور ہدف سے متعلق ہدایات دیتے سنائی دے رہے تھے۔

خود کو آزاد بلوچ بتانے والے ایک فرد نے بی بی سی کو ٹیلی فون کرکے گزشتہ روز ڈیرہ اسمٰعیل خان میں ریلوے لائن اڑانے کی ذمہ داری قبول کی اور دعوٰی کیا کہ مند کے علاقے میں بھی لڑائی جاری ہے۔ آزاد بلوچ نے سرکاری حکام کی ان اطلاعات کی بھی تردید کی کہ مسلح قبائلیوں اور سرکاری دستوں کے درمیان عیدالاضحٰی کے حوالے سے کسی بھی طرح کی جنگ بندی ہوئی ہے۔

اسی بارے میں
ریلوے لائن بم سے اڑا دی گئی
05 January, 2006 | پاکستان
ڈیرہ بگٹی میں حالات کشیدہ
03 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد