ریلوے لائن بم سے اڑا دی گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان سے ملحقہ پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان میں نامعلوم شر پسندوں نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ریلوے لائن کو اس وقت بارود سے اڑا دیا جب کچھ ہی دیر بعد کوئٹہ سے لاہور جانے والی چلتن ایکسپریس نے وہاں سے گزرنا تھا۔ پولیس حکام کے مطابق ریلوے لائن کو تھانہ کوٹ مبارک کی حدود میں واقع گاؤں حیات والا کے قریب تخریبی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ دھماکے سے پٹڑی کا تقریباً دو فٹ سے زائد ٹکڑا علیحدہ ہوا ہے۔ چلتن ایکسپریس کو ڈیرہ غازی خان کے ریلوے سٹیشن پر روک لیا گیا ہے جبکہ ریلوے حکام کے مطابق پٹڑی کے متاثرہ حصےکی مرمت کا کام جاری ہے۔ حالیہ مہینوں میں ڈیرہ غازی خان میں ریلوے لائن کے علاوہ بجلی اور گیس کی تنصیبات کو بھی متعدد بار تخریبی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم ان تمام واقعات میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ جبکہ پولیس ان کارروائیوں میں ملوث افراد کو تلاش کرنے میں اب تک ناکام رہی ہے ۔ مبصرین پنجاب کے اس نیم قبائلی ضلع میں سرکاری تنصیبات پر بڑھتے ہوئے حملوں کو بلوچستان کے ملحقہ اضلاع کوہلو، بارکھان اور ڈیرہ بگٹی میں امن و امان کی بگڑی ہوئی صورتحال کے تناظر میں دیکھتے ہیں جبکہ ان واقعات میں سے بیشتر کی ذمہ داری مبینہ طور پر زیر زمین کام کرنے والی علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی نے قبول بھی کی ہے۔ بلوچستان کے ملحقہ علاقوں میں بلوچ شدت پسندوں اور ریاستی اداروں کے درمیان جاری جھڑپوں کے موجودہ سلسلے کے پیش نظر پنجاب کی صوبائی حکومت نے بارڈر ملٹری پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بین الاصوبائی سرحد کی نگرانی سخت کرنے کی ہدایت بھی کر رکھی ہے۔ | اسی بارے میں ریلوے لائن کو بم سے اڑا دیا گیا 03 March, 2005 | پاکستان ڈیرہ غازی خان کوحساس قرار دیں‘06 February, 2005 | پاکستان دھماکہ: ریلوے ٹریفک معطل28 September, 2005 | پاکستان ریلوے لائن پر دھماکہ07 September, 2005 | پاکستان سبی پٹڑی کو دھماکے سے نقصان 01 May, 2005 | پاکستان چلتن ایکسپریس میں دھماکہ12 April, 2005 | پاکستان ٹرین دھماکوں میں دو افراد ہلاک 18 March, 2005 | پاکستان بلوچ قوم پرستی کا تاریخی پس منظر 11 February, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||