عالمی ادارے جائزہ لیں: عاصمہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان انسانی حقوق کمیشن کی چیئرپرسن عاصمہ جہانگیر نے مطالبہ کیا ہے کہ ریڈ کراس سمیت انسانی حقوق کے عالمی اداروں کو ڈیرہ بگٹی میں جا کر صورتحال کا جائزہ لینے دیا جائے کیونکہ ریاستی اداروں اور مسلح قبائلیوں کےدرمیان جاری تصادم کی وجہ سے وہاں جنگ کی سی صورتحال ہے۔ ڈیرہ بگٹی میں فریقین سے ملاقاتوں اور مختلف علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد اپنے مشاہدات بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ڈیرہ بگٹی میں چپے چپے پر فوج نے مورچے بنا رکھے ہیں جبکہ دونوں اطراف سے حملوں اور جوابی حملوں کا سلسلہ تواتر سے جاری رہتا ہے۔ عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ دونوں فریقوں کی طرف سے انہیں بموں اور راکٹوں کے خالی خول اس الزام کے تحت دکھائے گئے کہ یہ دوسرے فریق نے پھینکے ہیں۔ انہوں نے علاقے میں لینڈ مائنز کی موجودگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں فریقین نے مسلح تصادم میں ہلاک ہونے والے افراد کی اپنی اپنی تیارکردہ فہرستیں بھی دی ہیں۔ ان کے مطابق ’بگٹی قبیلے کی طرف سے دی گئی ہلاک شدگان کی فہرست میں عورتوں اور بچوں کے نام بھی شامل ہیں‘۔ انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے تو حکومت کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ ڈیرہ بگٹی میں فوج اور قبائلیوں کے درمیان مسلح تصادم شدت پکڑ گیا ہے اور اس کے بعد امن و امان کی بحالی کے لیے کی جانے والی کارروائی کے کچھ اصول طے کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ’حکومت کو آقا کی بجائے ایک فریق کے طور مذاکرات کا عمل شروع کرنا ہوگا کیونکہ وسائل کے حوالے سے مقامی آبادیوں کے حقوق مسلمہ ہیں جنہیں تسلیم کرنا ہوگا۔ مسئلہ بندوق سے نہیں مذاکرات کے ذریعے حل ہوگا‘۔ عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ نواب اکبر بگٹی سے ہونے والی ملاقات میں انہوں نے انہیں بھی یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ مسلح جدوجہد سے مسئلے کا حل نہیں ہوگا کیونکہ جیت آخر کار منظم فوج کی ہی ہوگی لیکن اس عمل میں بہت زیادہ جانی و مالی نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نواب بگٹی مایوس تھے اور ان کی باتوں میں تلخی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ’ان کا خیال تھا کہ چوہدری شجاعت حسین اور مشاہد حسین ڈیرہ بگٹی اور سوئی کے مسئلے پر فوج کے ہاتھوں استمعال ہوئے‘۔ یاد رہے کہ پچھلے سال مارچ کے اوائل میں جب حکومت اور بگٹی قبیلے میں تناؤ شدت اختیار کر گیا تھا تو حکومتی مسلم لیگ کے صدر چوہدری شجاعت اور سیکریٹری جنرل مشاہد حسین خصوصی طور پر ڈیرہ بگٹی آئے تھے اور اس وقت حکومت کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ نواب بگٹی سے معاملات طے پا گئے ہیں۔ حکومت کے ارادوں کے بارے میں نواب اکبر بگٹی کے خیالات بتاتے ہوئے عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ ان کا خیال ہے کہ فوج انہیں ختم کرنا چاہتی ہے اور یہ سب کچھ بلوچستان کے وسائل پر قبضہ کرنے کی ’سازش‘ کا حصہ ہے۔ عاصمہ نے کہا کہ ’میرا ذاتی خیال ہے کہ نواب صاحب کا اندیشہ وزن رکھتا ہے کیونکہ ڈیرہ بگٹی شہر اور اس کے اردگرد کوئی حساس تنصیبات نہیں ہیں کہ جن کی حفاظت مطلوب ہے لیکن اس کے باوجود وہاں فوجی اور نیم فوجی دستوں کی بھر مار ہے‘۔
عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ ڈیرہ بگٹی اور سوئی کے درمیان چھاؤنی کے قیام کا مقصد بھی حساس تنصیبات کی حفاظت، امن و امان کا قیام اور قانون کی بالادستی کی بجائے وسائل پر قبضہ کرنا لگتا ہے۔ ’اگر ایسا نہ ہوتا تو کنوؤں سے سوئی پلانٹ تک میلوں میل پھیلی گیس پائپ لائنز کی بھی حفاظت کی جارہی ہوتی‘۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج کی بھاری نفری صرف سوئی گیس پلانٹ اور پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) کے کمپاؤنڈ کی حفاظت پر تعینات ہے۔ عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ پی پی ایل کے کمپاؤنڈ کے دورے کے دوران انہوں نے دیکھا کہ وہاں سکیورٹی کے بہت سخت انتظامات ہیں اور فوج کی اجازت کے بغیر وہاں کوئی بھی داخل نہیں ہوسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پی پی ایل کمپاؤنڈ کے رہائشی لوگوں سے جب دریافت کیا کہ آیا سیکیورٹی کے اتنے سخت انتظامات ڈاکٹر شازیہ خالد والے واقعہ کے بعد کیے گئے تو ان کا کہنا تھا کہ ’سکیورٹی ہمیشہ سے ہی ایسی ہی ہے‘۔ یاد رہے کہ پی پی ایل کمپاونڈ کی رہائشی ڈاکٹر شازیہ سے جنسی زیادتی کے واقعے میں جب ایک فوجی افسر کیپٹن عماد کا نام سامنے آیا تو حکومت نے اس الزام کو رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس واقعہ میں(پی پی ایل کمپاونڈ سے) باہر کے لوگ ملوث ہیں۔ عاصمہ جہانگیر کی قیادت میں ڈیرہ بگٹی اور سوئی کا دورہ کرنے والے انسانی حقوق کمیشن کے وفد نے اپنے دو روزہ قیام کے دوران نواب اکبر بگٹی، فرنٹیر کور کے کرنل فرقان، ضلعی رابطہ افسر عبدالصمد لاسی، پی پی ایل کے حکام اور مقامی لوگوں سے ملاقاتیں کیں۔ کمیشن اس دورے پر مبنی رپورٹ بھی جاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||