اپنے مسائل خود مل بیٹھ کر حل کیجئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نازیبا کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف پوری دنیا میں مسلمانوں کے طرف سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جو تشدد کی بھی شکل اختیار کرسکتا ہے۔ اسی خطرے کے پیش نظر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل جناب کوفی عنان نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کارٹون شائع کرنے والے احبار کو معاف کردیں اورکسی ایک فرد یا چند افراد کی غیرذمہ داری کی سزا سارے لوگوں کو نہ دیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ کارٹونون کی اشاعت کے خلاف احتجاج آزادی اظہار کی خلاف ورزی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آزادی اظہار ہر شخص کا حق ہے اور اس پر کسی طرح کی قدغن لگانا ایک جرم ہے لیکن آزادی اظہار کے اس مقدس حق کو اگر کسی فردیافرقے کی دل آزاری کے لیے استعمال کیا جائے یہ گناہ ہے اور یہ اگر کسی سے دانستہ یا نادانستہ سرزد ہوجائے تو نہ صرف اس سے متاثر ہونے والوں سے بلکہ خود اپنے آپ سے بھی معافی مانگنی چاہیے اس لیے کہ بقول شخصے’وہ اذیت جو میں نے تمہیں پہنچائی ہے وہ تو تم معاف کردوگے لیکن تمہیں اذیت پہنچا کر جو گناہ میں نے اپنے ساتھ کیا ہے اس کا کیا ہوگا‘۔ اس ہفتے ایک اور اہم خبر یہ آئی ہے کہ یونیورسٹی کالج لندن کے ایک پروفیسر فلپس سینڈز نے اپنی کتاب ’لالیس ورلڈ یعنی قانون سے عاری دنیا‘ کے تازہ ترین ایڈیشن میں ایک ’میمو‘ کا انکشاف کیا ہے کہ جس کے مطابق صدر بش اور برطانوی وزیراعظم ٹانی بلیئر عراق پر حملے کا فیصلہ اپنی ایک ملاقات میں پہلے ہی کرچکے تھے اور اس کی منظوری اقوام متحدہ سے حاصل کرنے کی کوششوں کا مقصد محض اپنے اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے ایک قانونی جواز پیدا کرنا تھا۔
اخباری اطلاع کے مطابق اس ملاقات میں یہ بھی تجویز زیرغور آئی کہ فوجی کارروائی کے حق میں اقوام متحدہ کو آمادہ کرنے کے لیے ایک یو ٹو قسم کا امریکی جاسوسی طیارے کواقوام متحدہ کے نشانات کے ساتھ عراق کی فضائی حدود میں داخل کیا جائے اور اگر صدام مشتعل ہوکراس پر فائرنگ کریں تو یہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی خلاف ورزی ہوگی اور اس کی بنیاد پر ان کے خلاف کارروائی کا جواز پیدا ہوجائے گا۔ بعض مبصرین کا یہ بھی خیال ہے کہ اس میمو سے اندازہ ہوتا ہے کہ صدر بش کو یہ معلوم تھا کہ عراق کے پاس وسیع تباہی والے ہتھیار نہیں ہیں اس کے باوجود وہ اس کے خلاف کارروائی کرنا چاہتے تھے اور وزیراعظم ٹانی بلیئر نے ان کو یہ یقین دلایا دیا تھا کہ وہ جو بھی کریں گے انہیں یعنی جناب بلیئر کو اپنےساتھ پائیں گے۔ برطانوی وزیراعظم کے ترجمان نے اس انکشاف کی تردید یا تصدیق کرنے کے بجائے صرف یہ کہا ہے کہ برطانوی حکومت نے عراق اپنی فوجیں بھیجنے کا فیصلہ پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد کیا تھا۔ اگرچہ اس میمو میں کوئی نئی بات سامنے نہیں آئی، صرف یہ ہوا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کے اس اقدام سے متعلق لوگوں کے ذہنوں میں جو شکوک وشبہات تھے ان کی تصدیق ہوگئی ہے اور یہ ثابت ہوگیا ہے کہ اس حملے کا مقصد عراق کو وسیع تباہی والے ہتھیاروں سے پاک کرنا نہیں کچھ اور تھا وہ’ کچھ اور‘ کیا تھا۔ اس کے بارے میں کسی قطعی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے ذرا اور انتظار کرلینا چاہئے۔ مجھے یقین ہے کہ جلد ہی کوئی اور ’میمو‘ نکل آئے گا جس سے اس کارروائی کے اصل مقاصد بھی سامنے آجائیں گے۔ لیکن اس انکشاف میں جو دلچسپ بات ہے وہ یہ کہ بڑی طاقتوں کے رہنما یا ارباب اقتدارجو کچھ کہتے ہیں اس پر سو فیصد یقین نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بارے میں کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے ان کے قول وفعل کا بڑے غور وخوض سے جائزہ لینا چاہیے۔ اب آپ دیکھیں اگر امریکہ صدام حسین کو مشتعل کرنے کےلیے اپنا ایک طیارہ اقوام متحدہ کے نشانوں کے ساتھ عراق کی فضائی حدود میں بھیجنے کا ارادہ کر سکتا ہے تو پھر اپنے مقاصد کے حصول کے لیے سب کچھ کرسکتا ہے۔
ممکن ہے کہ 1980 میں صدام حسین کے کان میں کسی نے یہ کہہ دیا ہو کہ ایران میں اسلامی انقلاب تازہ تازہ ہے اس موقع پر اگر گھس جاؤ توخرم شہر کی بندرگاہ بھی تمہاری اور شط العرب بھی تمہارا اور صدام صاحب نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور گھس گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بیسویں صدی کی طویل ترین جنگ ہوئی جس میں دونوں طرف کے کوئی پانچ لاکھ افراد کھیپ رہے کوئی دس لاکھ زخمی ہوئے اور اس جنگ پر کوئی 35 کھرب ڈالرلاگت آئی ۔ امریکہ کے کرنل اولیور نارتھ خفیہ طور پر اسرائیل کے ذریعے اپنا اسلحہ بیچتے رہے اور اس سے حاصل ہونے والی رقم نکاراگوا کی سوشلسٹ حکومت کے مخالفین کی امداد کے لیے استعمال کرتے رہے۔ اتنی بڑی رقم اگردونوں ممالک اپنے عوام کے مسائل حل کرنے پر صرف کرتے تو کیا سے کیا ہوجاتے۔ اسی طرح ممکن ہے کہ کویت پر حملے کے لیے بھی صدام حسین کے کان میں پھونک دیا گیا ہو کہ’چڑھ جا بیٹا سولی پر رام بھلی کرے گا‘ اور وہ چڑھ گئے اور پھر جو کچھ ہوا وہ سب کو معلوم ہے۔
میرے کہنے کا مطلب صرف یہ ہے کہ بڑی طاقتیں اقوام متحدہ کے ذریعے یا اس کے بغیر اپنے ہر اقدام کے لیے ایک ’جائز‘ اور’ قانونی‘ جواز پیدا کرنے پر قادر ہیں اور اگر آج وہ کسی کی سرپرستی کر رہی ہیں تو اس کی محبت میں نہیں کرتیں بلکہ اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے کرتی ہیں اور جب ضرورت پوری ہوجاتی ہے تو ایسے منہ پھیر لیتی ہیں جیسے افغانستان سے روس کے انخلاء کے بعد مجاہدین سے منہ پھیرلیا تھا یا جیسے ایران عراق جنگ کے خاتمے کے بعد عراق سے ناراض ہوگئیں۔ اب ناروے اور ڈنمارک میں جو کارٹون شائع کیے گئے ہیں اور اس پر جسطرح مسلمانوں نے ردعمل ظاہر کیا ہے ہو سکتا ہے اس کا مقصد بھی مسلمانوں مشتعل کرنا اور اصل مسائل سے ان کی توجہ ہٹانا ہو۔ ضرورت اس کی ہے کہ اس حقیقت کو ترقی پزیر اور پسماندہ ممالک سمجھیں اور ان بڑی طاقتوں کے بھرے میں آنے کے بجائے اپنے آپس کے معاملات خود مل بیٹھ کر طے کریں اوران بڑی طاقتوں کی گود میں بیٹھنے کے بجائے اپنے علاقوں میں اپنی جڑیں مضبوط کریں۔ ورنہ یہی ہوتا رہے گا جوروس کے انخلاء کے بعد افغان مجاہدین ہوا اور اب عراق کے ساتھ ہورہا ہے۔ |
اسی بارے میں فارورڈ بلاک یا ذاتی اختلافات17 December, 2005 | قلم اور کالم کشمیر: پاکستان کی سفارتی یلغار26 November, 2005 | قلم اور کالم اے خانہ بر اندازِ چمن کچھ تو . . . 19 November, 2005 | قلم اور کالم سارک دنیا کا سب سے بڑا بلاک12 November, 2005 | قلم اور کالم زلزلے سے کیا سیکھا جا سکتا ہے05 November, 2005 | قلم اور کالم بش جوچاہتے، دنیا نہیں چاہتی 28 January, 2006 | قلم اور کالم شیطان کے شیرے سے بچیں07 January, 2006 | قلم اور کالم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||